ملتان (جنرل رپورٹر) میونسپل کارپوریشن ملتان میں تعینات سکیل12کے اہلکار راؤ رفیع نے مویشی منڈی سامورانا میں نام نہاد’’جگا ٹیکس‘‘کی وصولی کے لیے پرائیویٹ لوگوں کی خدمات حاصل کر لی ہیںجس کے بعد منڈی میں لوٹ مار کا بازار مزید گرم ہو گیا ہے۔ تاجر اور بیوپاری اس بھتہ خوری کے خلاف سراپا احتجاج ہیںلیکن کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی سرپرستی میں راؤ رفیع اور اس کے پرائیویٹ غنڈے دن دہاڑے بھتہ وصولی کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق راؤ رفیع نے حال ہی میں مویشی منڈی میں داخل ہونے والے ہر جانور پر جگا ٹیکس کی مد میں من مانی وصولی تیز کر دی ہے۔ چھوٹے جانور پر500روپے، بڑے جانور پر 1200 روپے تک لیے جا رہے ہیں، بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ پارکنگ، پانی، چارے اور دھکے کے الگ الگ نام پر بھی ان سے پیسے لیے جاتے ہیں۔ایک بیوپاری نے بتایا کہ ہمارے ساتھ بڑے مظالم ہو رہے ہیں۔ بھتہ وصول کر کے ہماری جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ جگا ٹیکس دینے سے انکار پر پرائیویٹ ڈنڈا بردار فورس آجاتی ہےجو بغیر پیسے لیے جانور چھوڑنے ہی نہیں دیتی۔راؤ رفیع سینٹری ورکر کے طور پر میونسپل کارپوریشن میں بھرتی ہوئے پھر سفارش اور اثر و رسوخ سے پہلے سکیل 12 اور پھر سکیل 14 میں ترقی پاتے چلے گئے۔ 2018 میں مبینہ غلطی پر ان کی سکیل 12 میں تنزلی کر دی گئی لیکن اعلیٰ افسران نے انہیں غیر قانونی طور پر گریڈ 16 کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے فرائض سونپ دیئے اور اب سکیل 17 کے آفیسر کی مراعات بھی دی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق راؤ رفیع ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ وصول کر رہاہے۔ سی ای او اقبال خان نہ صرف ان کی سرپرستی کر رہے ہیں بلکہ انہیں سرکاری جیپ بھی فراہم کر رکھی ہے،راؤ رفیع نے جگا ٹیکس کی وصولی کو اور تیز کرنے کے لیے پرائیویٹ افراد کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ یہ پرائیویٹ غنڈے مویشی منڈی میں گشت کرتے ہیں اور بیوپاریوں کو ڈرا دھمکا کر زبردستی وصولیاں کرتے ہیں۔ بیوپاریوں کے مطابق ان غنڈوں کی وجہ سے منڈی کا ماحول مکمل طور پر خوفناک ہو چکا ہے۔بھتہ خوری میں اضافے کے بعد بیوپاریوں نے احتجاجی آواز اٹھانا شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کمشنر ملتان سے مطالبہ کیا ہے کہ راؤ رفیع کو معطل کیا جائے،ان کی غیر قانونی ترقی منسوخ کی جائے،سرکاری جیپ واپس لی جائےاور ان کے خلاف مالی بدعنوانیوں کا مقدمہ درج کیا جائے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ بلدیاتی نظام میں کرپشن اور لوٹ مار کی سنگین علامت ہے۔ شہریوں نےحکومت اور اعلیٰ افسران سے اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور شہریوں اور بیوپاریوں کو ان کے بنیادی حقوق دلوانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔







