لودھراں: 70 یونین کونسلوں میں مبینہ کرپشن، کروڑوں کے جعلی بلوں کا انکشاف

لودھراں(بیورورپورٹ) ضلع لودھراں کی 70 کے قریب یونین کونسلوں میں مبینہ کرپشن، فیک بلنگ اور سرکاری فنڈز میں خوردبرد کے الزامات سامنے آنے کے باوجود ضلع بھر کی یونین کونسلوں کا چارج رکھنے والے DDLG راؤ منصب علی تاحال اپنے منصب پر فائز جبکہ ڈپٹی کمشنر آفس کے قریب ایک ہوٹل پر بیٹھ کر مبینہ طور پر 30 فیصد کمیشن لے کر بلوں پر دستخط کرنے کے الزامات۔ذرائع کے مطابق مختلف یونین کونسلوں میں کروڑوں روپے کے بوگس بل، فرضی ترقیاتی سکیمیں اور کاغذی اخراجات سامنے آنے کے بعد ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ملتان کی جانب سے بعض یونین کونسلوں کی انکوائری بھی شروع کی گئی تھی تاہم یہ انکوائریاں بعد ازاں مبینہ طور پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر داخل دفتر کر دی گئیں جس پر شہری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق یونین کونسل راجہ پور، سمراء، سگواں، کونڈی، چک ہمتہ، کمال پور جتیال، حویلی نصیر خان، واہی سلامت رائے اور دیگر متعدد یونین کونسلوں میں مبینہ طور پر صفائی، سیوریج، پلیوں، فلیکسز، سٹریٹ لائٹس، ڈیزل، مشینری اور کتے مار ادویات کی مد میں لاکھوں روپے کے بوگس بل منظور کیے گئے جبکہ کئی علاقوں میں ترقیاتی کام زمین پر موجود ہی نہیں تاہم سرکاری ریکارڈ میں تمام سکیمیں مکمل ظاہر کرکے ادائیگیاں کلیئر کر دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق بعض یونین کونسلوں میں ایک ہی کام کے بار بار بل ڈالے گئے مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ بلوں کی منظوری کے لیے DDLGنے مبینہ طور پر 30 فیصد تک کمیشن وصول کرکےضلع بھر سے مبینہ طور پر بھاری رقوم اکٹھی کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔دوسری جانب انکوائریوں کا اچانک رک جانا بھی کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ شہری و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈی جی اینٹی کرپشن، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر لودھراں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرا کے مبینہ طور پر ملوث افسران، سیکریٹریز اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قومی خزانے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔رابطہ کرنے پر DDLG راؤ منصب علی نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے کسی قسم کا کوئی غیر قانونی بل پاس نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے کمیشن لیا گیا، تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں