ملتان (سٹاف رپورٹر) نشتر ہسپتال میں ایچ آئی وی پازیٹو مریض کے شہباز نامی پروٹوکول مریض کے آپریشن کے متنازع کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا، جبکہ اس مجرمانہ غفلت کے اصل ذمہ دار ڈاکٹر مسعود ہراج اب سیاسی ساتھی ڈاکٹروں کے ذریعے پریس کانفرنسوں اور احتجاجی بیانیوں بنا پر خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ ڈاکٹر مسعود ہراج کہ جن پر ایڈز مریض کے آپریشن کی منظوری، سفارش اور بغیر مکمل ٹیسٹ رپورٹس کے سرجری کرانے کے سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اب خود کو “مکھن سے بال کی طرح” نکالنے کی کوششوں میں سرگرم ہیں، جبکہ تمام تر ذمہ داری زیر تربیت ڈاکٹروں اور جونیئر سٹاف پر ڈال عید قربان سے پہلے انہیں قربانی کا میٹریل بنانے والے بھی یہ موصوف خود ہی ہیں۔ نشتر میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل میں پروفیشنل اور اجلی شہرت کے حامل ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر معاملہ اتنا ہی حساس تھا تو بغیر ایچ آئی وی ٹیسٹ رپورٹ کی مکمل تصدیق اور مناسب حفاظتی پروٹوکول کے آپریشن کیوں کیا گیا؟ اور اگر فیصلے اعلیٰ سطح پر ہوئے تو پھر سارا ملبہ صرف زیر تربیت ڈاکٹروں اور معاون عملے پر کیوں گرایا جا رہا ہے؟صورتحال اس وقت مزید متنازع بن گئی جب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) جنوبی پنجاب برانچز اور پی ایم اے ضلع ملتان کی جانب سے آج 25 مئی کو نشتر ہسپتال کینٹین میں پریس کانفرنس کا اعلان کیا گیا، جس میں ایچ آئی وی پازیٹو مریض کی سرجری کی “حقیقت” سامنے لانے اور ڈاکٹروں و الائیڈ ہیلتھ اسٹاف معطل کروانے کے بعد ان کی معطلی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانے کا کہا گیا ہے۔ طبی حلقوں کا مؤقف ہے کہ جن عناصر پر خود سوالات اٹھ رہے ہیں، وہی اب متاثرہ فریق بن کر سامنے آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ڈاکٹرز کی سیاست، گروہی مفادات اور داخلی طاقت کی کشمکش نے ایک اہم طبی ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ادھر بعض حلقے اسے “بحالی کی جدوجہد” نہیں بلکہ “بیانیہ بچاؤ مہم” قرار دے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ معاملے کی آزادانہ، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ طے ہو سکے کہ اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور کن فیصلوں کے نتیجے میں یہ سانحہ وقوع پزیر ہوا۔







