ملتان(سٹاف رپورٹر) نشتر انتظامیہ کو بلیک میل کرنے کے لیے گزشتہ روز ڈاکٹر مسعود الرؤف ہراج کے اشارے پر ڈاکٹروں نے پراپیگنڈا مہم جاری رکھی جس کی وجہ سے مریضوں کا معائنہ تعطل کا شکار رہا۔ بتایا گیا ہے کہ ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا شہباز پروٹوکول مریض تھا اور اس کا پروٹوکول ارجنٹ بنیادوں پر ڈاکٹر ہراج ہی کے حکم پر لگایا گیا تھا اور اب ڈاکٹر اس کا سارا ملبہ نشتر کی لیبارٹری پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ لیب کے کمپیوٹرائز سسٹم کے سامنے ان کی ساری پلاننگ دھری کی دھری رہ گئی ہے۔ یاد رہے کہ ملتان کے برن سنٹر میں انتظامی آفیسر ڈاکٹر نوید اختر نے پی ایم اے کے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور برن یونٹ میں سختی سے میرٹ لاگو کرنے کی کوشش کی تھی جس پر ڈاکٹر مسعود رئوف ہراج کے سیاسی ڈاکٹر ساتھیوں نے بعض طلبا و طالبات اور نچلے درجے کے سٹاف کو ڈاکٹر نوید اختر کے مقابلے میں کھڑا کرکے ان کے خلاف ہراسمنٹ کی درخواستیں دائر کروا دی تھیں مگر بعد میں بعض درخواست گزاروں نے اپنی درخواستیں یہ کہہ کر واپس لے لی تھیں کہ ان پر دباؤ ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے ضمیر کی روشنی میں کسی کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہو سکتے اس لیے اپنی درخواستیں واپس لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ بعض ڈاکٹروں کو اکاموڈیٹ نہ کرنے کی وجہ سے ڈاکٹر مسعود ہراج نے ڈاکٹر نوید اختر کے خلاف پریس کانفرنس بھی کی تھی اور انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ نشتر میڈیکل کالج ڈاکٹروں کی سیاست کے حوالے سے کئی دہائیوں سے بدنام ہے اور یہاں طلبہ سیاست کا آغاز 70 کی دہائی میں شروع ہوا تھا جو بعد میں بڑھتا بڑھتا ڈاکٹروں تک پھیل گیا۔ ہاں یہ امر قابل ذکر ہے طلبہ میں تو سیاسی رجحان اور سٹوڈنٹ پولیٹکس کا سلسلہ مکمل طور پر ختم ہو گیا مگر ڈاکٹروں میں ختم نہ ہو سکا بلکہ بڑھتا ہی چلا گیا نشتر کی ہر انتظامیہ ان سیاسی ڈاکٹروں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی آ رہی ہے۔
نشتر ایڈز غفلت کیس: مسعود ہراج کلیئر، وی سی مہناز خاکوانی ڈاکٹروں کے سیاستدان کے آگے بے بس
ملتان (سٹاف رپورٹر) نشتر میڈیکل ہسپتال میں ایڈز کا ٹیسٹ کرائے بغیر شہباز نامی مریض کا آپریشن کرنے کی سنگین نوعیت کی مجرمانہ غفلت کے مرکزی کردار اور ڈاکٹروں کی سیاست کے سرخیل ڈاکٹر مسعود الرئوف ہراج کو ابتدائی انکوائری میں کلین چٹ دے دی گئی اور ایک مرتبہ پھر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر مہناز خاکوانی اپنی پرائیویٹ پریکٹس کی کمزوری کی وجہ سے ڈاکٹروں کے سیاستدان سے شکست کھا گئیں۔ اس سلسلے میں روزنامہ قوم نے جو معلومات حاصل کی اس کے مطابق شہباز نامی مریض باضابطہ طور پر او پی ڈی کے ذریعے ہسپتال میں داخل ہوا اور سفارش کی بنیاد پر ان کا ترجیحی بنیادوں پر آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے لیے تیار مریضوں کی حتمی فہرست ڈاکٹر مسعود ہراج کی حتمی منظوری ہی سے جاری ہوتی ہے اور ان کی منظوری کے بغیر کوئی آپریشن نہیں ہو سکتا اسی لیے سب سے پہلے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی کوتاہی بنتی ہے اور انہیں کٹہرے میں لانا چاہیے تھا مگر میرٹ پر عمل کرنےکے بجائے وائس چانسلر سہولت کاری پر ایک مرتبہ پھر اترنے پر مجبور ہو گئیں۔ حیران کن طور پر اس چارج نرس کو بھی معطل کر دیا گیا جس نے نشاندہی کی تھی کہ شہباز نامی مریض کی فائل میں ایچ آئی وی ٹیسٹ کی رپورٹ شامل نہیں ہے مگر اس کے باوجود وہاں موجود ڈاکٹروں اور ہیڈ نرس نے اسے شٹ اپ کال دے کر مریض کا آپریشن کروا دیا۔ یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ نشتر ہسپتال کی لیبارٹری جنوبی پنجاب کی جدید ترین آٹومیٹک لیبارٹری ہے جہاں ہر ٹیسٹ کے نمونے کے وصول ہونے اور پھر اس نمونے کی رپورٹ کے جاری ہونے کا ٹائم مشینیں خود بخود درج کر دیتی ہیں جسے تکنیکی زبان میں ٹی او ٹی یعنی ٹرن راؤنڈ ٹائم کہا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ رپورٹ کو چھپایا جا رہا ہے کیونکہ رپورٹ اگر منظر عام پر آئی تو سب کچھ اوپن ہو جائے گا۔ اس صورتحال کے حوالے سے روزنامہ قوم نے قومی سطح کی ایچ آئی وی ٹاسک فورس کے ذمہ دار ذرائع سے رابطہ کیا تو یہی معلومات ملیں کہ کوئی بھی آپریشن ایچ آئی وی رپورٹ کے بغیر نہیں کیا جا سکتا اور یہی ایس او پی ہے جن پر سختی سے عمل درآمد لازم ہے جس کی سخت خلاف ورزی کی گئی اور میڈیکل کی ٹرم میں یہ سنگین نوعیت کا ناقابل معافی جرم ہے۔ نشتر کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ یہ روٹین کا کیس تھا اور اس میں کسی قسم کی کوئی جلدی یا ایمرجنسی نہ تھی کہ ہنگامی بنیادوں پر آپریشن کیا جاتا بلکہ یہ آپریشن تو دس پندرہ دن لیٹ بھی ہو جاتا تو کوئی پہاڑ گر نہیں جانا تھا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نشتر انتظامیہ اور انکوائری ٹیم نے او پی ڈی سے لسٹ لی ہے اور یہ معلومات حاصل کی ہیں کہ مریض کا داخلہ کس روز ہوا اور لسٹ میں اس کا نام کب ڈالا گیا اور نام ڈالنے سے پہلے رپورٹیں کیوں نہ کروائی گئیں۔ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ آپریشن کے لیے اس مریض کی سفارش کس نے کی جو اتنی عجلت میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر مسعود ہراج نے آپریشن لسٹ میں شہباز نامی ایچ آئی وی کے مریض کا نام ڈالا۔
ایڈز کا مریض ڈاکٹرہراج کے وارڈ نمبر 5 میں زیرعلاج ، قریبی لوگوں کی ’’قوم‘‘ کو معلومات دینےوالے تلاش
ملتان (سٹاف رپورٹر) ایچ آئی وی ایڈز کا مریض شہباز اب بھی نشتر ہسپتال کے وارڈ نمبر 5 میں ایک علیحدہ کمرے میں زیر علاج ہے اور یہ وارڈ ڈاکٹر مسعود ہراج ہی کا ہے۔ مریض کو مکمل آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے اور جہاں اس کے علاج پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے وہیں پر اس سے ملنے کی بھی سخت پابندی ہے اور کسی کو اسے ملنے نہیں دیا جا رہا حتیٰ کہ اس کے عزیز و اقارب کے لیے بھی اس سے ملنا خاصہ دشوار کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہباز نامی مریض کا چارٹ غائب کر دیا گیا ہے اور اپنے معاملات کی اصلاح کرنےکے بجائے ڈاکٹر مسعود ہراج کے حکم پر ان کے قریبی لوگ ان ملازمین کی تلاش کر رہے ہیں جنہوں نے چارٹ اور دیگر معلومات روزنامہ’’ قوم ‘‘کو فراہم کیں۔







