آئی ایم ایف کی پیٹرولیم لیوی میں 18 فیصد اضافے کی سفارش، عوام پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ اہداف سے متعلق جاری مذاکرات کے لیے پاکستان میں موجود آئی ایم ایف مشن کے دورے میں دو روز کی مزید توسیع کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان متعدد اہم نکات پر ابتدائی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ تاہم پیٹرولیم لیوی کے ہدف میں 18 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اس وقت پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 108 روپے 17 پیسے وصول کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیشل اکنامک زونز کے لیے نئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور خصوصی اقتصادی و ٹیکنالوجی زونز کی مراعات کو سال 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ صوبوں کو اضافی 430 ارب روپے ریونیو اکٹھا کرنے کا ہدف دیا گیا ہے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے صوبوں سے وفاق کو تقریباً 2 ٹریلین روپے سرپلس فراہم کرنے کا بھی مطالبہ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دسمبر 2026 تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ششماہی ہدف 7022 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات 21.2 ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کو 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں معاشی شرح نمو 3.5 فیصد جبکہ اوسط مہنگائی 8.4 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مالی معاونت میں 5500 روپے اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پروگرام کی رقم 14,500 سے بڑھا کر 18,000 روپے کرنے پر عارضی اتفاق بھی ہو چکا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں