علی پور (خبر نگار ) علی پور کے نواحی علاقے علی والی میں پانچ ہزار ایکڑ رقبے پر سولہ ارب روپے کی لاگت سے زیر تعمیر جھینگے کی افزائش نسل کے لئے (شرمپ فارم ) منصوبے میں پیٹی ٹھیکیدار ساجد سٹھاری کے خلاف کرپشن کی شکایات پر صوبائی سیکرٹری نے موقع کا معائنہ کیا۔ اس منصوبے میں ناقص مشینری کی خریداری ،بغیر ٹیسٹنگ کا میٹریل اور سامان تاریں وغیرہ کی مہنگے داموں خریداری کی رسیدیں لگا کر ٹھکیدار ساجد سٹھاری نے سرکاری فنڈز کو بے دردی سے ناجائز استعمال کیا اور تاحال 400 ملازمین میں سے علی والی کے مقامی افراد 1200 ورکررکھنے کی بجائے نوکریوں پر من پسند افراد لگائے۔ روزنامہ قوم میں شائع ہونے والی رپورٹ پر سیکرٹری فشریز رانا سیلم افضل علی پور پہنچ گئے اور انہوں نے موقع کا معائنہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق علی والی علی پور محکمہ جنگلات کے پانچ ہزار ایکڑ رقبہ پر پنجاب کا سب سے بڑا شرمپ (جھینگا) فارمنگ منصوبہ تیاری کے مراحمل میںہے۔ علی والی میں محکمہ جنگلات کے پانچ ہزار ایکڑ رقبے پر آٹھ سو تالاب،ٹیوب ویل، ڈرینج اور سڑکیں بنائی جا رہی ہیں۔ دیگر انفرا سٹرکچر کا بھی 90 فیصد مکمل ھو چکا ہے۔منصوبے کا مقصد پنجاب میں گرین اکانومی کو فروغ دینا اور روزگار کے نئے ذرائع پیدا کرنے کے علاوہ بلیو اکانومی سے بیرونی ممالک سے زرمبادلہ کمانا ہے۔ اس منصوبے سے علی والی کے 1200 مقامی افراد کو نوکریوں سمیت چار ھزار ملازمین تعینات کیے جائیں گے۔ پنجاب پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ذرائع کے مطابق یہ تاریخی منصوبہ پبلک ہیلتھ کے زیر اہتمام تیار کیا جارہا ھے مگر منصوبے میں تمام تعمیراتی کام مشینری سے لے کرسڑکوں کی تعمیر تک ناقص کوالٹی کی اشیاء کی خریداری کے باعث کرپشن کی شکایات تھیں کیونکہ ٹھیکیدار ساجد سٹھاری جو خود کو سابق رکن قومی اسمبلی باسط سلطان کا فرنٹ مین متعارف کرایا کرتا تھا کنسٹر کشن کے شعبے میں اچھی شہرت کا حامل نہ ہے جس کے متعلق پبلک ہیلتھ انجنئرنگ کے سابق ایکسین اور سائیٹ انچارج اسداللہ مہر نے منصوبہ میں ناقص میٹریل اور ناقص مشینری کے استعمال کی نشان دہی کی تو کنٹریکٹر ساجد سٹھاری نے اسے تبدیل کرا دیا اور اس کی جگہ ایک ایس ڈی او کو اضافی چارج دلوا دیا گیا ہے جس سے اپنی مرضی کا کام لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علی والی شرمپ منصوبہ کے حوالے سے روزنامہ قوم میں آنے والی خبروں پر صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے آج سیکرٹری فشریز رانا سیلم افضل موقع پر پہنچے۔ قبل ازیں انہوں نے گزشتہ روز مظفرگڑھ مونڈکا کے نزدیک بنائے گئے شرمپ منصوبہ کا جائزہ بھی لیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ 75 کروڑ روپے سے تعمیر ہونے والا منصوبہ اپنی افادیت ثابت نہیں کر سکا۔ یہ صورت حال بھی توجہ طلب ہے کہ پچہتر کروڑ روپے کا منصوبہ ناقص تعمیر کرنے والے کنٹریکٹر ساجد سٹھاری ہی کو علی والی میں سولہ ارب روپے کا میگا پراجیکٹ کیسے مل گیا ہے؟۔







