ملتان ( خصوصی رپورٹر) کپاس ٹیکس اورسی سی آرآئی ملتان کی اراضی پر جمخانہ منصوبہ مسترد، پی سی جی اے نے معاملہ وزیرخزانہ کے سامنے رکھ دیا۔چیئر مین شام لال نےکہاکہ فصل کپاس کی بحالی کے لئے حکومت کی عدم دلچسپی اس بات سے بھی عیاں ہے کہ 100سال زیادہ سے قائم کراچی کاٹن ایسوسی ایشن سے اس کی کراچی میں عمارت چھین لی گئی اور ایف آئی اےکے حوالے کردی اورملتان میں 56 سال سے کپاس کی تحقیق و ترویج میں مصروف سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی زمین پر جمخانہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کو اس کی عمارت واپس کی جائے اور سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی زمین پر جمخانہ کے قیام کا منصوبہ ترک کیا جائے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بھی چیئرمین، پی سی جی اے شام لال منگلانی کی معروضات کی تائید کی اور درخواست کی کہ ان کے تمام مطالبات کو ملک کے بہترین مفاد میں تسلیم کیا جائے۔قبل ازیںچیئرمین پاکستان کاٹن جنرز ایسو سی ایشن شام لال منگلانی جو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری(FPCCI) کی زرعی ٹاسک فورس کے چیئرمین بھی ہیں نے ایف پی سی سی آئی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد جس کی قیادت ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کر رہے تھے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔چیئرمین، پی سی جی اے نے خصوصی طور پر کھل اور بنولے پر 18فیصد جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے کپاس کی پیداوار اور جننگ سیکٹر پر پڑنے والے برے اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2023-24 کے تحت مقامی کپاس، بنولہ، کھل اور کاٹن سیڈ آئل پر 18% جنرل سیلز ٹیکس عائد کیا گیا جس کا مقصد ریونیو بڑھانا تھا مگرریونیو کم ہوا، کپاس کا شعبہ تباہ ہوا۔ ٹیکس لگنے سے تجارت پہلے سے زیادہ غیر دستاویزی ہوگئی ا ورFBR کو متوقع Rs. 55 ارب کے بجائے Rs. 8 ارب ملے،800 سے زائد فیکٹریاں بندہوئیں، 200,000 مزدور بے روزگارہوئے،کسان نے کپاس چھوڑ دی۔ 2024-25 میں پیداوار 40 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی۔زرمبادلہ کا نقصان ہوا کیونکہ EFS کے تحت ملز نے ٹیکس فری درآمدی یارن لے آئیں جس سے 9 ماہ میں 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ خوردنی تیل اور گوشت/دودھ کی قیمتیں 20-30% بڑھیں، کیونکہ بنولہ اور کھل مہنگے ہو گئے۔انہوں نے بتا یا کہ بھارت، چین، امریکہ، ازبکستان کوئی بھی ملک اپنی کپاس پر ویلیو چین کے اندر سیلز ٹیکس نہیں لگاتا۔ سب کا مقصد مقامی پیداوار بڑھانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اندریں حالات کھل اور بنولہ اور مقامی کپاس پر 18% سیلز ٹیکس کا خاتمہ وقت کی اہم کی ضرورت ہے۔انہوں نے وزیرِ خزانہ سے درخواست و مطالبہ کیاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مقامی کپاس، بنولہ، کھل اور کاٹن سیڈ آئل کو فوری طور پر زیرو ریٹ کیا جائے، EFS کے تحت درآمدی کپاس، یارن اور گرے کپڑے پر بھی 18% سیلز ٹیکس لگایا جائے تاکہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہو، کاٹن سیس کے واجب الادا رقم فوری طور پر پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کو جاری کیے جائیں تاکہ کپاس پر تحقیق بحال ہو۔انہوں نے بتایا کہ ان تما م اقدامات فائدہ یہ ہو گا کہ کپاس کی پیداوار 3 سال میں 12 ملین بیلز تک پہنج جائے گی،2 ارب ڈالر کی درآمدات بچیں گی،500,000 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، FBR کا حقیقی ریونیو بڑھے گا کیونکہ ڈاکیومنٹیشن بحال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کپاس، بنولہ، کھل اور کاٹن سیڈ آئل پر 18% جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ نے ریونیو تو نہیں بڑھایا البتہ کپاس ختم کر دی اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر فوری طور پر یہ ٹیکس ختم نہ ہوا تو پاکستان کپاس کی پیداوار میں خود کفالت کھو دے گا اور 10 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمدات خطرے میں پڑ جائیں گی۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے چیئرمین پی سی جی اے کو بڑی توجہ سے سنا اور یقین دلایا کی آنے والے بجٹ میں کھل اور بنولے پر سیلز ٹیکس کو ختم کر دیا جائے گا۔ میٹنگ میں چیئرمین پی سی جی اے شام لال منگلانی اور صدر ایف پی سی سی آئی کے علاوہ ایف پی سی سی آئی کے سنیئر وائس پریزیڈنٹ ثاقب فیاض مگوں،وائس پریزیڈنٹ حاجی آسف سخی،امان پراچہ، طارق جدون اور میاں زاہد حسین نے بھی شرکت کی۔







