ملتان (تجزیاتی رپورٹ:میاں غفار احمد) پنجاب بھر میں مختلف جامعات کے انضمام کے حوالے سے اچانک سامنے آنے والے فیصلوں نے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی غیر مستحکم پالیسی، غیر معیاری منصوبہ بندی اور آئے روز بدلتی حکومتی حکمت عملی پر کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق اگر آج پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ ہائر ایجوکیشن یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ایک ہی شہر یا ایک ہی خطے میں قائم متعدد جامعات وسائل کے ضیاع، انتظامی پیچیدگیوں اور تعلیمی پروگرامز کے غیر ضروری دہراؤ کا باعث بن رہی ہیں تو سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ جامعات آخر بنائی ہی کیوں گئی تھیں؟ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پنجاب خصوصاً ملتان جیسے شہروں میں گزشتہ برسوں کے دوران یونیورسٹیوں کے قیام میں تعداد بڑھانے پر زیادہ زور دیا گیا جبکہ طویل المدتی تعلیمی منصوبہ بندی، طلبہ کی ضروریات، فیکلٹی کی دستیابی، مالی استعداد اور ادارہ جاتی پائیداری جیسے بنیادی عوامل کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں پہلے سے بہاالدین زکریا یونیورسٹی جیسی بڑی، قدیم اور ہمہ جہت جنرل یونیورسٹی موجود تھی مگر اس کے باوجود ایمرسن یونیورسٹی ملتان، محمد نواز شریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان، محمد نواز شریف ایگریکلچر یونیورسٹی ملتان اور دیگر اداروں کے قیام کا سلسلہ جاری رکھا گیا جس کے بعد ایک ہی شہر میں متعدد جامعات کے درمیان طلبہ، وسائل، فیکلٹی اور پروگرامز کی تقسیم نے نئے مسائل کو جنم دیا۔ مبصرین کے مطابق بعض اوقات جامعات کے قیام کے پیچھے تعلیمی ضرورت سے زیادہ سیاسی اعلانات اور نمائشی ترقی کا عنصر بھی نمایاں دکھائی دیا یہاں تک کہ بعض تاریخی کالجز کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دے کر ان کی اصل شناخت تبدیل کر دی گئی جس کے اثرات پہلے سے موجود بڑی جامعات کے داخلوں، وسائل اور تعلیمی ساخت پر بھی مرتب ہوئے۔ اب جبکہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان ہی جامعات کے انضمام کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اس عمل کو ایک طرح سے ماضی کی ناکام پالیسی سازی کا اعتراف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم تعلیمی حلقے یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انضمام کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل مکمل طور پر غیر منطقی نہیں کیونکہ اگر ایک ہی شہر میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر متعدد جامعات ایک جیسے پروگرامز چلا رہی ہوں، الگ الگ انتظامی ڈھانچے، مالی دفاتر، وائس چانسلرز، رجسٹرارز اور دیگر سیٹ اپس قائم ہوں تو سرکاری وسائل پر اضافی بوجھ پڑنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یونیورسٹیوں کے انضمام سے مالی بچت، وسائل کے مؤثر استعمال، انفراسٹرکچر کا بہتر استعمال، فیکلٹی ریشنلائزیشن، تعلیمی معیار میں بہتری اور تحقیقی صلاحیتوں کے فروغ جیسے مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں جبکہ غیر ضروری ادارہ جاتی مقابلے اور پروگرامز کے دہراؤ کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی کئی ممالک محدود وسائل کے بہتر استعمال کے لیے یونیورسٹی اس طرح کے انضمام کا ماڈل اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس فیصلے کے کئی حساس اور پیچیدہ پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تعلیمی انتظامی ماہرین کے خیال میں محض ایک اجلاس یا انتظامی فیصلے کے ذریعے جامعات کے انضمام کا اعلان کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کے اثرات اساتذہ، افسران، ملازمین، طلبہ اور فارغ التحصیل گریجویٹس سمیت بہت دور تک جائیں گے۔ مختلف جامعات کے سروس سٹرکچر، سینیارٹی، تعیناتیوں، انتظامی اختیارات، ادارہ جاتی شناخت اور کیمپس گورننس کے معاملات پر درجنوں سوالات پیدا ہو سکتے ہیں جبکہ ایسی جامعات جن کی ڈگریاں لے کر ہزاروں طلبا و طالبات ملک اور بیرون ملک اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، ان اداروں کی ممکنہ تبدیلی یا انضمام ان کی برانڈ شناخت اور ڈگری recognition کے حوالے سے بھی تباہ کن خدشات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین تعلیم کے دلائل یوں ہیں کہ حکومت اور ہائر ایجوکیشن اداروں کو صرف انضمام کے فیصلے تک محدود رہنے کے بجائے یہ بھی جائزہ لینا ہوگا کہ ماضی میں جامعات کے قیام کی منظوری کن بنیادوں پر دی گئی، فزیبلٹی رپورٹس میں کیا نکات شامل تھے، علاقائی ضروریات، مالی بوجھ، داخلہ استعداد، مارکیٹ ڈیمانڈ اور تعلیمی معیار کو کس حد تک مدنظر رکھا گیا تھا۔ تعلیمی مبصرین کے مطابق پنجاب کو اب ایک واضح، مستقل اور متوازن اعلیٰ تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے جس کے تحت ہر ضلع میں بنیادی طور پر ایک مضبوط جنرل یونیورسٹی، ضرورت کے مطابق ایک الگ ویمن یونیورسٹی اور مخصوص علاقائی ضروریات کے مطابق محدود سپیشلائزڈ یونیورسٹیوں کے قیام کی گنجائش رکھی جائے جبکہ نجی شعبے میں بھی یونیورسٹیوں کے قیام کے لیے صرف تعداد نہیں بلکہ معیار، فیکلٹی، تحقیق، مالی استحکام اور تعلیمی ضرورت کو بنیادی پیمانہ بنایا جائے۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق اگر یونیورسٹیوں کے انضمام کا عمل جامع مشاورت، شفاف منصوبہ بندی، قانونی تحفظات اور تمام stakeholders کی شمولیت کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہ پنجاب کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو زیادہ مضبوط، منظم اور مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے تاہم اگر اس عمل کو زمینی اور معروضی حقائق کو مد نظر رکھے بغیر صرف مالی بوجھ کم کرنے یا فوری انتظامی حل کے طور پر نافذ کیا گیا تو یہ مستقبل میں مزید ادارہ جاتی تنازعات، شناختی بحران، ملازمتوں کے خدشات اور تعلیمی بے یقینی کو جنم دے سکتا ہے جس کے بعد یہ سوالات مزید شدت اختیار کر جائیں گے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصل ترجیح جامعات کی تعداد بڑھانا ہے یا تعلیمی معیار کو مضبوط متحکم اور جدید عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔







