راجن پور،ڈیرہ غازی خان(ڈپٹی بیورو چیف، ڈسٹرکٹ رپورٹر) قانون کا محافظ تین ماہ تک اپنے علاقے کی ٹک ٹاکر خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کرکے زیادتی کانشانہ بناتا رہا ۔متاثرہ خاتون آرپی او کی کھلی کچہری میں پیش ہوگئی۔آرپی او نے متاثرہ خاتون کو انصاف فراہم کرتے ہوئے ایس ایچ او کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوے معطل کرکے راجن پور سے کلوز ٹو لائن کر دیا۔تفصیل کے مطابق قانون کا محافظ طاقت ، اختیارات و عہدے کے نشے میں آکر قانون کو روندتے ہوے غریب کی بیٹی کے ساتھ تین ماہ تک زیادتی کرتا رہا۔ آبائی گاؤں چوٹی کی رہائشی خاتون تبسم عباس دختر غلام عباس جوگیانی مختلف فورم میں پیش ہو کرکے انصاف طلب کرتی رہی لیکن نہ ملنے پر خود سوزی کی دھمکی دی۔گزشتہ روز آرپی او ڈیرہ کی کھلی کچہری میں پیش ہوکرکے تمام ثبوت و شواہد پیش کیے۔جس پر آرپی او نےداد رسی کرتے ہوے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج مقدمہ کے مطابق راجن پور کے تھانہ روجھان میں تعینات ایس ایچ او ابرار خان برمانی کے ساتھ سابق شوہر وسسرالیوں کے خلاف کارروائی کے لیے ان کے ساتھ کار میں مارچ میں راجن پور گئی واپسی پر ایس ایچ او ذاتی مکان ڈیرہ گارڈن ٹاؤن لے گیا اور شادی ومحبت کا جھانسہ دے کرکے زیادتی کی ۔عید الفطر کے موقع پر شام کو چوٹی سے دوبارہ گارڈن ٹاؤن ڈیرہ لے گیا اور زیادتی کرتا رہا اور شادی کے وعدے کرتا رہا۔ تین اپریل کے علاوہ 13 اپریل کو اپنے ڈیرہ گارڈن ٹاؤن مکان میں زیادتی کی ۔میرا آئی فون جس میں تصویریں اور ویڈیوز موجود تھیں کو توڑ دیا ۔آر پی او ڈیرہ کے حکم پر ملزم ایس ایچ او ابرار برمانی کے خلاف زیر دفعہ 365 ت۔پ مقدمہ درج کرکے روجھان سے مذکورہ ایس ایچ او کو لائن کلوز کر کے معطل کر دیا گیا ہے ۔دوسری طرف موصوف نے مدعیہ مقدمہ سے صلح کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں ۔شہریوں علی محمد ،نذر حسین نے متاثرہ خاتون کو بر وقت انصاف فراہم کرنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔







