ایمرسن: 38 لاکھ کے 25 ویکیوم کلینرز، 18 لاکھ کے شیمپو، قالین دھلائی، ڈاکٹر رمضان دور کی ایک اور مالی بے ضابطگی

ملتان (قوم ریسرچ سیل) ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں سابق وائس چانسلر رمضان گجر کے دور کی خریداریوں سے متعلق ایک اور مبینہ مالی بے ضابطگی سامنے آگئی ہے، ویکیوم کلینرز کی خریداری میں من پسند کمپنی کو نوازنے اور لاکھوں روپے کی مبینہ بے قاعدگیوں کے الزامات نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 25 ویکیوم کلینرز کی خریداری کے معاملے میں تقریباً 38 لاکھ 64 ہزار روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا کیس سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سٹیٹ افسر عمیر سہیل کی جانب سے 25 ویکیوم کلینرز کی ریکوزیشن پرچیز آفس کو ارسال کی گئی جس کے بعد ٹینڈرنگ پراسس میں دو کمپنیوں، ہاسپٹل مینجمنٹ اور نور انٹرپرائزز نے حصہ لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکنیکل کمیٹی نے دونوں کمپنیوں کو فنانشل بڈ کے مرحلے کے لیے اہل قرار دیا، جس کے بعد فنانشل بڈز کھولی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نور انٹرپرائزز کی بڈ کم ہونے پر اسے ورک آرڈر جاری کرنے کے لیے اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹررمضان گجر سے ایڈمنسٹریٹو منظوری بھی حاصل کر لی گئی تھی۔ تاہم بعد ازاں المدد کارپوریشن کی جانب سے ایک گریوینس درخواست جمع کروائے جانے کے بعد معاملہ نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق وارث بھٹی جو نہ صرف پرچیز کمیٹی بلکہ گریوینس کمیٹی کا بھی حصہ تھے، نے مبینہ طور پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے المدد کارپوریشن کے حق میں فیصلہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گریوینس کمیٹی نے ٹیکنیکل کمیٹی کو ٹیکنیکل ایویلیوایشن دوبارہ کرنے کے احکامات جاری کیےحالانکہ اس مرحلے تک فنانشل بڈ پہلے ہی اوپن ہو چکی تھی۔ اس پیش رفت پر یونیورسٹی حلقوں میں کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کمپنی کو اعتراض تھا تو مقررہ مدت کے اندر گریوینس کیوں دائر نہ کی گئی؟ مزید یہ کہ فنانشل بڈ کھلنے کے بعد دوبارہ ٹیکنیکل ایویلیوایشن کیسے کی گئی اور مبینہ طور پر المدد کارپوریشن کو ٹیکنیکل و فنانشل دونوں مراحل میں کامیاب قرار دے کر خریداری کا ٹھیکہ اس کے حوالے کیوں کیا گیا؟ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ماڈل نمبر Luotian LT-1002 کے ویکیوم کلینر کی جو تکنیکی خصوصیات فراہم کی گئیںمبینہ طور پر متعلقہ مشین ان پر پوری نہیں اترتی جبکہ اس کے ماڈل کی حیثیت بھی مشکوک قرار دی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق سابق وائس چانسلر رمضان گجر کے دور میں پرچیز کمیٹی کو مخصوص افراد کے ذریعے چلایا جاتا رہا اور وارث بھٹی کو نہ صرف پرچیز کمیٹی بلکہ اعتراضات نمٹانے والی گریوینس کمیٹی میں بھی شامل رکھا گیاجس پر مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ یونیورسٹی حلقوں نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرسن یونیورسٹی کی تمام خریداریوں خصوصاً ویکیوم کلینر ٹینڈر، گریوینس پراسس اور تکنیکی جانچ پڑتال کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ یاد رہے یونیورسٹی کے ابتدائی سلیکشن بورڈ اجلاس میں بہاالدین زکریا یونیورسٹی کے شعبہ شماریات کے چیئرمین پروفیسر امان اللہ نے امیدوار ڈاکٹر عمیر احمد کو اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کے لیے موزوں قرار نہیں دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ڈاکٹر عمیر احمد کی تعیناتی مبینہ طور پر سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رمضان گجر کے دور میں عمل میں لائی گئی، جس میں بعض بااثر شخصیات کے کردار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر رمضان گجر کے دور میں صرف شیمپو اور قالین دھلوانے کی مد میں تقریباً 18 لاکھ روپے کے بل منظور کیے گئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں