ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں گزشتہ روز پشتون طلبہ اور جمعیت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے درمیان ہونے والے پرتشدد تصادم کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی جبکہ پشتون طلبہ کی جانب سے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری کے نام ایک تفصیلی اور جذباتی پیغام بھی سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرے میں قرار دے دیا۔ یونیورسٹی میں کئی روز سے مختلف طلبہ گروپوں کے درمیان کشیدگی پائی جا رہی تھی تاہم گزشتہ روز یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب جعفر کینٹین اور بعد ازاں اے بی ہال کے اطراف میں دونوں گروپوں کے درمیان تلخ کلامی باقاعدہ لڑائی جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ واقعے کے بعد کیمپس میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ متعدد طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پشتون طلبہ کی جانب سے وائس چانسلر کو بھیجے گئے پیغام میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دو روز قبل مین گیٹ پر ایک پشتون طالبعلم کو صرف ہاسٹل جانے کی کوشش پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پیغام کے مطابق اگلے روز بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک طالبعلم کو بھی اس وقت مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا جب وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ میں پیپر دینے گیا تھا۔ گزشتہ روز تقریباً 40 سے 50 افراد یونیورسٹی آئے جنہوں نے خود کو جمعیت کے کارکن ظاہر کیا جبکہ ان میں سے متعدد افراد مبینہ طور پر اسلحہ سے بھی لیس تھے۔ پشتون طلبہ کے مطابق جعفر کینٹین میں ان پر تشدد کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی جس کے نتیجے میں پانچ طلبہ زخمی ہوئے جبکہ بعد ازاں اے بی ہال میں بھی ان پر حملہ کیا گیا۔ متاثرہ طلبہ نے اپنے پیغام میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ حملہ آوروں میں صرف یونیورسٹی کے طلبہ شامل نہیں تھے بلکہ بیرونی افراد بھی موجود تھے جن کی عمریں 40 سے 45 برس کے قریب معلوم ہو رہی تھیں۔ طلبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ واقعی طلبہ تنظیم کے کارکن تھے تو پھر یونیورسٹی میں اسلحہ اور بیرونی افراد کی موجودگی کیسے ممکن ہوئی۔ پشتون طلبہ نے انتظامیہ پر اپنی بات نہ سننے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں وائس چانسلر تک رسائی نہیں دی جا رہی اور یہ کہا جا رہا ہے کہ وائس چانسلر نے ملاقات سے منع کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی ایسا ہے تو یہ ان کے ساتھ ناانصافی ہےجبکہ اگر یہ بات غلط ہے تو پھر بعض عناصر دانستہ طور پر صورتحال کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ پیغام میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر پشتون طلبہ کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہےجس میں ان پر قوم پرستی اور تخریب کاری کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ کے مطابق اس مہم کا مقصد مزید اشتعال پھیلانا اور بیرونی عناصر کو متحرک کرنا ہے جس سے یونیورسٹی کا ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے۔ پشتون طلبہ نے اپنے پیغام میں نہایت جذباتی انداز میں کہا کہ وہ دور دراز علاقوں سے صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملتان آئے ہیں لیکن یہاں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری اور غیر جانبدارانہ کارروائی نہ کی گئی تو بہا الدین زکریا یونیورسٹی کا ماحول مزید خراب ہو سکتا ہے۔ ادھر واقعے کے بعد مختلف طلبہ حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ طلبہ اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ فوری طور پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائے، کیمپس میں اسلحہ لانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور تمام طلبہ کو بلاامتیاز تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ جامعہ کا ماحول مزید کشیدگی اور تصادم کی طرف نہ بڑھے۔







