لودھراں(بیورو رپورٹ)محکمہ لوکل گورنمنٹ لودھراں میں مبینہ کرپشن، ٹینڈرنگ میں بے ضابطگیوں اور من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کے الزامات کے بعد ایک اور سنگین انکشاف سامنے آیا ہے کہ محکمے میں قواعد و ضوابط اور سروس سٹرکچر کو نظر انداز کرتے ہوئے انتظامی بدنظمی برقرار ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ میں ڈرافٹس مین کو مبینہ طور پر سب انجینئر کے طور پر فرائض سرانجام دینے پر مامور کر دیا گیا ہے جبکہ 18 مارچ کو تعینات ہونے والے باقاعدہ سب انجینئرز کو مبینہ طور پر ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور فیلڈ ورک سے مکمل طور پر دور رکھا گیا ہے۔ ان افسران کو ’’کھڈے لائن‘‘ لگا کر عملی طور پر غیر فعال کر دیا گیا ہےجس سے نہ صرف انتظامی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ پربھی سوال ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ غیر قانونی انتظام کے باعث ترقیاتی کاموں کی کوالٹی کنٹرول، مانیٹرنگ اور تکنیکی جانچ کا نظام کمزور پڑ گیا ہےجس سے پہلے سے جاری مبینہ ناقص میٹریل کے استعمال کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مبینہ طور پر ان منصوبوں میں باہمی رضا مندی کے تحت ٹھیکیداروں کے درمیان کام پہلے ہی تقسیم کر لیے گئے SAP-VII (سیونگ) 2024-25 اور SAP-VIII 2025-26 کے تحت یکم جنوری 2026 تا 30 جون 2026 کے دوران ضلع لودھراں میں درجنوں ترقیاتی سکیمیں شامل کی گئی ہیںجن میں ٹف ٹائل، سولنگ، نالیوں اور پلوں کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی مالیت تقریباً 6 کروڑ روپے بنتی ہے۔ مبینہ طور پر ایس ڈی او لوکل گورنمنٹ صہیب اللّہ نے ان ترقیاتی کاموں کا کمیشن وصول کرکے ورک آرڈر بھی جاری کردیا تھا۔ شہری و سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر انکوائری کی جائے اور قواعد کے خلاف کی جانے والی تمام تعیناتیوں اور مبینہ غیر قانونی انتظامی فیصلوں کی چھان بین کی جائے۔ذرائع کے مطابق اگر اس معاملے کا آڈٹ اور فیلڈ ویری فکیشن کروایا جائے تو مزید انتظامی بے ضابطگیاں سامنے آنے کا امکان ہے۔ ایس ڈی او صہیب اللّہ سے رابطہ کرنے پرموبائل نمبر2##03352912 مسلسل بند ملا۔







