ملتان (عوامی رپورٹر) لودھراں میں تعینات ایم ڈی واسا نے مقامی زمیندار سے ڈسپوزل کے لیے کرائے پر حاصل کی گئی دو کنال زمین کی معاہدے کے تحت سالانہ ادائیگی سے انکار کر دیا اور مطالبے پر ڈسپوزل سٹیشن پر جا کر اراضی کے مالک کے بیٹے کو تھپڑ رسید کر دیئے۔ بتایا گیا ہے کہ مقامی زمیندار محمد یعقوب نے 23 سال قبل سال 2003 میں اپنی اراضی سے دو کنال کا ایک ٹکڑا بلدیہ لودھراں کو کرائے پر دیا تاکہ بلدیہ اس پر ڈسپوزل سٹیشن قائم کر سکے۔ اس کے لیے جو تحریری معاہدہ ہوا اس کی شرائط کے مطابق میونسپل کمیٹی لودھراں نے ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ کرایہ اور ہفتے میں ایک مرتبہ ڈسپوزل کا پانی مذکورہ زمیندار کو اس کی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے دینا تھا۔ 23 سال تک اس معاہدے پر عمل درآمد ہوتا رہا مگر حکومت پنجاب نے جب صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں واسا کے ادارے بنائے تو جاوید اختر نامی ایم ڈی واسا لودھراں نےچاررج سنبھال کر نہ صرف معاہدے کے مطابق پیسے دینے سے انکار کر دیا بلکہ پانی بھی دینا روک دیا اور دو ٹوک الفاظ میں اراضی کے مالک باپ بیٹے کو اپنے دفتر سے بے عزت کرکے نکال دیا کہ واسا لودھراں میونسپل کمیٹی کے کسی فیصلے پر عمل درآمد کی پابند نہیں ،وہ جسے چاہیں پانی فروخت کریں حالانکہ قانون کے مطابق جب کوئی محکمہ کسی دوسرے محکمے میں ضم ہوتا ہے تو اس کے تمام تر معاہدوں پر عمل درامد لازمی ہوتا ہے مگر ایم ڈی واسا نے سالانہ کرایہ دینے سے بھی انکار کر دیا اور پانی دینے سے بھی انکار کر دیا جس پر زمیندار محمد یعقوب اور اس کے بیٹے نے اپنی اراضی کا راستہ روک دیا تو ایم ڈی واسا غصے میں ڈسپوزل سٹیشن پر پہنچ گئے اور انہوں نے محمد یعقوب کے بیٹے کو تھپڑ جڑ دیئے جس کی ویڈیو وہاں موجود لوگوں نے اپنے موبائل کے ذریعے بنا لی۔ محمد یعقوب اور اس کے بیٹے نے روزنامہ قوم کو معاہدے کی کاپی ویڈیوز اور تمام تر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ جن افسران کو ہم پر بٹھایا جاتا ہے انہیں اخلاقیات کے درس بھی دیئے جائیں اور ان کے باقاعدہ تربیتی کورس کروائے جائیں تاکہ عوام ان کے رویوں سے تنگ نہ ہو۔
ایم ڈی واسا نے ریکارڈ نہ ہونے کا اعتراف کر لیا، تھپڑ مارنے پر خاموشی
ملتان (عوامی رپورٹر) ایم ڈی واسا لودھراں جاوید اخترنے یہ تسلیم کیا کہ ڈسپوزل سٹیشن کی زمین اور وہاں ہونے والے انتظامی معاہدوں کی صورتحال خود متعلقہ ادارے کے لیے بھی مکمل طور پر واضح نہیں۔ ان کے مطابق شہر کا گندا پانی جس ڈسپوزل میں جاتا ہے اس کے بارے میں نہ مکمل ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے اور نہ ہی اصل معاہدہ دستیاب ہے بلکہ انہیں یہ تک معلوم نہیں کہ متعلقہ جگہ سرکاری ملکیت ہے یا نجی اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ کسی فرد کو وہاں تعینات یا متعین کرنے کا اختیار کس کے پاس تھا۔ مبینہ طور پر افسر نے اعتراف کیا کہ اصل معاہدہ ان کے دفتر میں موجود ہی نہیں جبکہ صرف زبانی معلومات کی بنیاد پر معاملات چلائے جا رہے تھے۔ تنازع کا سب سے حساس پہلو مبینہ تشدد اور تھپڑ مارنے کا معاملہ بن گیا ہے۔ قوم کی جانب سے جب ایم ڈی واسا لودھراں سے براہِ راست سوال کیا گیا کہ کیا نوجوان کو تھپڑ مارا گیا؟ تو افسر نے واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ’’یہ میری حد تک نہیں آتا‘‘۔ تاہم گفتگو میں یہ اعتراف ضرور سامنے آیا کہ نوجوان کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایک سوال اٹھایا گیا کہ آیا بغیر اشتہار افراد کو ملازمتیں دی گئیں؟ جس پر مبینہ طور پر ایم ڈی نے تسلیم کیا کہ دو تین افرادکو ورک چارج بنیادوں پر رکھا گیا تھا مگر تقرریاں عارضی نوعیت کی تھیں اور تین ماہ بعد ختم ہو جاتی تھیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ نوجوان نے کبھی باضابطہ درخواست نہیں دی اور نہ ہی باقاعدہ پراپر چینل کے ذریعے ملازمت کے لیے اپلائی کیا۔ افسر کے مطابق اگر نوجوان سرکاری ادارے میں نوکری چاہتا تھا تو اسے قانونی اور سرکاری طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے تھا نہ کہ براہِ راست جا کر جگہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا۔ معاملے میں ایک اور اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ متعلقہ ڈسپوزل اسٹیشن کے حوالے سے مستقبل میں نئی جگہ منتقل ہونے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ گفتگو میں عندیہ دیا گیا کہ جلد نیا ڈسپوزل سسٹم بننے جا رہا ہے اور موجودہ مقام سے آپریشن منتقل کیا جا سکتا ہے۔ متاثرہ فریق نے اس پورے معاملے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسپوزل سٹیشن کی اصل ملکیت اور معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں۔ اگر بھرتیوں متعلقہ ادارے کے پاس خود معاہدے اور ملکیت کا واضح ریکارڈ موجود نہیں تو پھر برسوں سے اس اہم سرکاری سیوریج کا انتظام آخر کس بنیاد پر چلایا جا رہا تھا اور سالانہ بنیادوں پر ڈیڑھ لاکھ روپے کی ادائیگی کیسے اور کس مد سے کی جا رہی تھی۔







