ملتان ( خصوصی رپورٹر)بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں طلباء تنظیموں کے درمیان تصادم، کیمپس میدانِ جنگ بن گیا، شدید فائرنگ سے خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ڈنڈوں سوٹوں کے استعمال سے متعدد طلباء زخمی ہوگئے ،پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، تفصیل کے مطابق اسلامی جمعیت طلباء اور پشتون سٹوڈنٹس کونسل فاٹا گروپ کے درمیان معمولی تنازع پر ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوگیا جس کے باعث لڑائی جھگڑا شروع ہوگئی شاہد کینٹین کے قریب شروع ہونے والی تلخ کلامی دیکھتے ہی دیکھتے ڈنڈوں، سوٹوں اور مبینہ طور پر اسلحے کے آزادانہ استعمال تک جا پہنچی اور طلباء کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے باعث یونیورسٹی کی فضا شدید فائرنگ سے لرز اٹھی اور طلباء و طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا،بھگدڑمچ گئی۔ ذرائع کے مطابق پورا کیمپس کئی گھنٹے تک میدانِ جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔عینی شاہدین کے مطابق دونوں گروپوں کے کارکنان اچانک آمنے سامنے آگئے اور پہلے ہاتھا پائی شروع ہوئی جس کے بعد لاٹھیوں اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب مبینہ طور پر شدید ہوائی فائرنگ شروع کردی گئی۔ فائرنگ کی آوازوں سے یونیورسٹی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ طلباء تنظیموں کے متعدد طلباء زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں پشتون طلباءکے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، ذرائع کے مطابق تصادم کی ابتدائی وجہ امتحانی مرکز میں کرسی رکھنے کے معاملے پر ہونے والی تلخ کلامی بنی تاہم بعد ازاں دونوں تنظیموں کے کارکن بڑی تعداد میں جمع ہوگئے اور معاملہ جھگڑے میں تبدیل ہوگیا طلبہ ایک دوسرے کا تعاقب کرتے رہے جبکہ یونیورسٹی کے مختلف بلاکس میں شدید کشیدگی برقرار رہی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ ڈی ایچ اے پولیس کی نفری یونیورسٹی پہنچ گئی جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے صورتحال پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات شروع کردیے۔ پولیس نے کیمپس کے مختلف حصوں کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیے ہیں جبکہ واقعے کی ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جارہی ہیں۔اس حوالے سے ریذیڈنٹ آفیسر زکریا یونیورسٹی ڈاکٹر مقرب اکبر نے بتایا کہ پولیس یونیورسٹی میں موجود ہے، معاملے کی مکمل تفتیش اور ویڈیوز حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پیپر کے دوران ایک طالبعلم کی کرسی کی جگہ پر تنازع ہوا جس نے بعد میں جھگڑے کی شکل اختیار کرلی۔ جمعیت اور پشتون طلباء نے ایک دوسرے کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہوائی فائرنگ بھی کی، انہوں نے کہا کہ اطلاع پر وہ موقع پر پہنچ گئے اور دونوں گروپوں کے طلبہ کو الگ کیا،معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔
ذرائع کے مطابق پولیس تھانہ ڈی ایچ اے نے کارروائی کرتے ہوئے ایک تنظیم کے پانچ طلباء کو حراست میں لے لیا ہے جن میں محسن ، زین ، منعم بٹ ، محمد خبیب اور ارسلان گجر شامل ہیں ، معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے زکریا یونیورسٹی انتظامیہ کے ہمراہ ابوبکر ہال میں سرچ آپریشن بھی کیا ۔
مقرب اکبر کی کرسی ہلنےکی بات ہوتےہی تو طلبہ جھگڑوں میں اضافہ سوالیہ نشان
ملتان (وقائع نگار) زکریا یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے تنازعات، انتظامی حلقوں میں تشویش ،بہا الدین زکریا یونیورسٹی میں طلبہ تنظیموں کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات اور جھگڑوں نے ایک بار پھر انتظامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق جب بھی انتظامیہ کی جانب سے آر او مقرب اکبر کو عہدے سے ہٹانے یا ان کے اختیارات محدود کرنے کی بات سامنے آتی ہے تو کیمپس میں مختلف طلبہ تنظیموں کے درمیان کشیدگی اور لڑائی جھگڑوں کے واقعات بڑھنے لگتے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایسے حالات میں مقرب اکبر اپنی انتظامی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی اور نظم و ضبط کی صورتحال کو بطور جواز پیش کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بھی مختلف طلبہ گروپوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے تعلیمی ماحول کو متاثر کیا ہےجبکہ طلبہ میں خوف و ہراس کی فضا پائی جا رہی ہے۔طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کیمپس میں مستقل امن و امان کے قیام کے لیے غیر جانبدارانہ اقدامات کرے اور تعلیمی ماحول کو سیاست اور گروہی تنازعات سے پاک بنایا جائے۔
زکریا یونیورسٹی میں پٹرولنگ افسرطالبعلم کی گاڑی جل گئی، آگ بجھانے کا انتظام ندارد
بند بوسن( کرائم رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں پر شارٹ سرکٹ کے باعث ایک گاڑی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ گاڑی مہر قیصر ہانسلہ پٹرولنگ پولیس آفیسر کی تھی جو کہ شعبہ تعلیم بہاالدین زکریا کے ایم فل کے طالب علم بھی ہیں۔ خوش قسمتی سے مہر قیصر ہانسلہ بروقت باہر نکل آئے اور محفوظ رہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی جامعہ زکریا میں آگ بجھانے والے آلات اور عملہ بالکل نہیں تھا جس کی وجہ سے آگ نے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے باعث گاڑی مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگئی۔ موقع پر موجود افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی۔ ریسکیو ٹیمیں بھی گاڑی مکمل جلنے کے بعد موقع پر پہنچیں۔ شہریوں نے اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اتنے بڑے ادارے میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام اور آلات نہیں ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ ہے جبکہ ادارے میں بے شمار قیمتی آلات اور عمارات موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ ہر وقت سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں بھی موجود ہوتی ہیں ۔ شہریوں نے اس حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور گورنر پنجاب سے انتظامیہ جامعہ زکریا کی غفلت ، لاپروائی اور غیر ذمہ داری کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔







