جامعات میں ریسرچ بپلشنگ مافیا، طالبات سے لاکھوں وصول، جعلی جرنلز میں نام فروخت

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر کی جامعات میں طالبات کو’’ریسرچ پبلشنگ مافیا‘‘ کے ذریعے بلیک میل کرنے، جعلی اکیڈمک سروسز، پیسے لے کر تحقیقی مقالوں میں نام شامل کرنے اور تھیسز کے چوتھے اور پانچویں چیپٹر تیار کروانے کے حوالے سے آئے روز سامنے آنے والی شکایات کے بعد اب ایک اور نہایت چونکا دینے والا اور شرمناک انکشاف سامنے آ گیا ہےجس نے اعلیٰ تعلیم کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ذرائع کے مطابق روزنامہ قوم کو موصول ہونے والی ایک تفصیلی شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک سرکاری یونیورسٹی کی خاتون اسسٹنٹ پروفیسر نے ریسرچ پیپر پبلشنگ کے نام پر طالبات، ریسرچ سکالرز اور اپنی ہی ایک خاتون کولیگ سے مبینہ طور پر بھاری رقوم اکٹھی کیں اور پھر ایک ایسے جرنل میں پیپر شائع کروایا جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ویب آف سائنس جیسے معتبر عالمی انڈیکس میں سرے سے شامل ہی نہیں۔ شکایت کے مطابق ایک پی ایچ ڈی طالبہ نے الزام لگایا کہ اس سے 25 ہزار روپے وصول کیے گئے اور ساتھ ہی اس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ مزید دو طالبات کو بھی اس’’پراجیکٹ‘‘میں شامل کرے، ورنہ اس کا پیپر شائع نہیں کروایا جائے گا۔ طالبہ کے مطابق اسے یقین دہانی کروائی گئی کہ ’’کوئی تحقیقی کام نہیں کرنا پڑے گا، صرف فیس ادا کریں اور نام ریسرچ پیپر میں شامل ہو جائے گا۔‘‘ ذرائع کے مطابق بعد ازاں ایک اور مزید پی ایچ ڈی طالبہ سے 25 ہزار روپے جبکہ ایک ایم فل طالبہ سے 10 ہزار روپے وصول کیے گئے۔ حیران کن طور پر پیپر میں پہلا نام اسی خاتون ٹیچر نے اپنا رکھاجبکہ 35 ہزار روپے ادا کرنے والی طالبہ کو دوسرے اور 30 ہزار روپے ادا کرنے والی طالبہ کو تیسرے نمبر پر رکھا گیا۔ اس کے بعد خاتون ٹیچر کے بھائی جو ملتان کی ہی ایک یونیورسٹی کے شماریات کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا نام بغیر کسی ادائیگی کے شامل کر دیا گیا۔ مزید حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا کہ خاتون اساتذہ کی ایک کولیگ جو عربی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتی ہیں، ان کا نام بھی پیپر میں شامل کیا گیا اور انہوں نے اس مقصد کے لیے 50 ہزار روپے ادا کیے۔ بعد ازاں باقی 25,25 ہزار روپے والی پی ایچ ڈی طالبات کے نام شامل کیے گئے جبکہ سب سے آخر میں 10 ہزار روپے دینے والی ایم فل طالبہ کا نام رکھا گیا۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک ہی ریسرچ پیپر کی مد میں تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار روپے اکٹھے کیے گئے جبکہ اصل فائدہ خاتون ٹیچر اور ان کے بھائی کو پہنچا جن کے نام مفت میں شامل ہوئے اور مالی فائدہ بھی حاصل کیا گیا۔ اکیڈمک حلقوں میں سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ظاہر کی جا رہی ہے کہ خاتون ٹیچر کا تعلق ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ان کے بھائی کا شماریات جبکہ ان کی کولیگ کا عربی ڈیپارٹمنٹ سے بتایا جا رہا ہے، لیکن پیپر ایک اپلائیڈ سائیکالوجی جرنل میں شائع کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف تحقیقی اخلاقیات بلکہ پورے اکیڈمک نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ ’’اکیڈمک کرپشن’’کی بدترین مثال ہوگی جہاں تحقیق علم کے بجائے کاروبار بن چکی ہےاور غریب طلبہ و طالبات کو ڈگری، سپروژن اور پبلشنگ کے نام پر مبینہ طور پر بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ملک کی مختلف جامعات سے اس نوعیت کی شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جن میں مبینہ طور پر تھیسز لکھوانے، جعلی جرنلز میں پبلشنگ، پیسے لے کر نام شامل کرنے اور سپروائزری اختیارات کے ناجائز استعمال جیسے سنگین الزامات بمعہ ثبوت شامل ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں