ملتان (سٹاف رپورٹر) گورنمنٹ صادق کالج و یمن یونیورسٹی بہاولپور میں مبینہ کرپشن، اقربا پروری اور ملازمین کے استحصال کے خلاف ایک نیا تنازع شد ت اختیار کر گیا ہے جہاں گزشتہ 12 برسوں سے 35 سے زائد ملازمین عدالتِ عالیہ کے واضح احکامات کے باوجود مستقل تقرری اور پروموشن سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ملازمین 2014 سے عارضی بنیادوں پر یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہے ہیں مگر ہر دورِ انتظامیہ میں انہیں مستقل کرنے کے بجائے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔ ان ملازمین کو سابقہ انتظامیہ کی جانب سے نوکریوں سے فارغ کیا گیا تھا جس کے بعد ہائی کورٹ نے انہیں بحال کرتے ہوئے یونیورسٹی کو ہدایات جاری کی تھیں کہ ان ملازمین کو مناسب طور پر ایڈجسٹ کیا جائےمگر حیران کن طور پر گزشتہ کئی برسوں میں متعدد بار نئی اسامیوں کے اشتہارات جاری ہونے کے باوجود ان متاثرہ ملازمین کو شامل ہی نہیں کیا گیا۔ اب ایک بار پھر یونیورسٹی میں مبینہ طور پر 50 سے زائد نئی اسامیاں پیدا کیے جانے کے بعد بھرتیوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، مگر متاثرہ ملازمین کا الزام ہے کہ انہیں دوبارہ نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب اتوار کی تعطیل کے دن انٹرویوز رکھے جانے پر بھی کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ وائس چانسلر سے مبینہ طور پر اصل حقائق چھپا کر اجازت لی گئی اور مختلف کمیٹیوں کی آڑ میں بھرتیوں کا متنازع عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ شہر میں گردش کرنے والی خبروں کے مطابق گریڈ 1 سے گریڈ 16 تک کی آسامیوں کے مبینہ ’’ریٹ ‘‘بھی طے کیے گئے ہیں۔ گریڈ 1 کی نوکری کے لیے مبینہ طور پر 3 لاکھ روپے جبکہ گریڈ 16 تک کی اسامیوں کے لیے 20 لاکھ روپے تک مانگے جا رہے ہیں۔ تاہم متاثرہ ملازمین اور بعض شہری حلقوں نے واضح کیا ہے کہ جس شخص پر رشوت طلب کرنے کے الزامات گردش کر رہے ہیں، اس کا اس وقت یونیورسٹی سے کوئی سرکاری تعلق نہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ اسے ماضی میں مبینہ کرپشن اور غیر اخلاقی حرکات کے الزامات پر ادارے سے نکالا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود شہر میں اس کے مبینہ رابطے مضبوط ہونے کے باعث وہ سادہ لوح شہریوں کو دھوکہ دے کر رقوم بٹورنے کی کوشش کر رہا ہے۔ متاثرہ ملازمین نے حکومت پنجاب، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور میں ہونے والی حالیہ بھرتیوں، انٹرویو کمیٹیوں اور مبینہ مالی لین دین کی فوری تحقیقات کرائی جائیں تاکہ برسوں سے انصاف کے منتظر ملازمین کو ان کا حق مل سکے اور ادارے کی ساکھ مزید تباہ ہونے سے بچائی جا سکے۔







