شیخ زید میڈیکل کالج، پرنسپل کے کماؤ ایڈمن افسر کی کرپشن داستانیں کھل گئیں، رشوت، کمیشن ففٹی ففٹی

رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)پرنسپل شیخ زید میڈ یکل کالج و ہسپتال کے کماؤ پتر غیر قانونی ایڈمن افسر کی کرپشن کی داستانیں کھل گئیں،تعمیراتی منصوبوں میں ٹھیکیداروں سے پرنسپل کے نام پر لاکھوں روپے کا کمیشن وصول ،ہسپتال میں حالیہ ہونیوالی بھرتیوں میں امیدواروں سے نوکریوں میں لاکھوں روپے کی رشوت،مشینری سمیت دیگر آلات ،اسٹیشنری کی خریداری کے فرضی اور بوگس بل بنا کر لاکھوں روپے کا ہیر پھیر سامنے آگیا،غیر حاضر ملازمین کی تنخواہوں اور فوت شدگان کے واجبات،مراعات پر ہاتھ صاف کیا،ادارے میں خواتین ملازمین کو ہراساں کرنے سمیت دیگر سنگین الزامات میں ملوث غیر قانونی ایڈمن افسر کیخلا ف کاروائی نہ ہونا ادارے کی ساکھ کیلئے سوالیہ نشان بن گیا۔تفصیل کے مطابق شیخ زید میڈیکل کالج و ہسپتال میں کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے اسکینڈل نے نیا رخ اختیار کرلیا،پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج و ہسپتال کے کماؤ پتر غلام مصطفیٰ کی کرپشن کی داستانیں کھلنا شروع ہوگئیں۔سرکاری معتبر ذرائع،سپیشل برانچ اور حساس اداروں کی مرتب کردہ رپورٹس میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں،اسپیشل برانچ کی 2024/25 میں مرتب کرکے حکومت پنجاب، محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو ارسال کی جانیوالی رپورٹس کے مطابق پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج و ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئےاپنے کماؤ پتر غلام مصطفیٰ کو پنجاب حکومت کی ختم کردہ ایڈمن افسر کی سیٹ پر تعیناتی کے آرڈر کئے ،جس نے سیٹ پر تعینات ہوتے ہی پرنسل پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری کی ایما پر کرپشن کی ندیاں بہانا شروع کردیا،معتبر سرکاری ذرائع کے مطابق غیر قانونی ایڈمن افسر نے شیخ زید میڈیکل کالج و ہسپتال میں جاری تعمیراتی منصوبوں میں ٹھیکیداروں سے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری کے نام پر لاکھوں روپے جبری کمیشن وصول کیا،کمیشن نہ دینے والے ٹھیکیداروں کی ادائیگیاں اور ورک آرڈر کا اجراء روک دیا جاتا بھاری رقوم وصول کی جاتی رہی ہیں،ایک حساس ادارے کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا شیخ زید ہسپتال میں حالیہ ہونیوالی بھرتیوں میں امیدواروں سے نوکریوں کی مد میں لاکھوں روپے کی رشوت وصول کرکے نوکریاں بیچی گئی اور میرٹ پر پورے اترنے والے غریب اور مستحق امیدواروں کے حق پر ڈاکہ ڈالاگیا،رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری کے نام پر وصول کیا جانا کمیشن اور رشوت “ففٹی ففٹی”کی جاتی رہی ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ شیخ زید میڈیکل کالج و ہسپتال میں مشینری سمیت دیگر آلات ،اسٹیشنری کی خریداری کے فرضی اور بوگس بل بنا کر لاکھوں روپے کی رقم کا ہیرپھیر کیا گیا ہے ،موصوف کی پیسوں کی ہوس اور پرنسپل سے وفا داری کی انتہا یہاں پر پہنچ چکی ہے کہ میڈیکل کالج و ہسپتال کے غیر حاضر ملازمین کی ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کے افسر سے مبینہ ساز باز کرکے تنخواہیں چلت کروائی گئیں جو ملازمین تک پہنچنے کی بجائے غیر قانونی ایڈمن افسر کے خزانے میں جمع ہوگئی اور پیسوں کی لالچ میں اندھے ایڈمن افسر نے دوران ڈیوٹی فوت ہونیوالے ملازمین کے واجبات ،مراعات پر بھی لاکھوں روپے کا ڈاکہ مار رکھا ہے۔پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر سلیم لغاری کا منظور نذر کماؤپتر جعلی اورمہنگی خریداری،ٹینڈرز میں کمیشن،غیر حاضر ملازمین کی تنخواہیں،تعمیراتی منصوبوں میں خوردبردمشینری خرید کر غائب دکھانے اور من پسند بھرتیوں جیسے سنگین الزامات میں ملوث پایا گیا ہے جس کیخلاف شکایات اور ملازمین کے احتجاجوں کے باوجود آج تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔شہری، سماجی اور سیاسی حلقوں نے حکومت پنجاب، محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اور متعلقہ احتسابی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو ذمہ دار عناصر کو قانون جزا و سزا دی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں