ملتان کچہری میں پر اسرار آگ، سرکاری ریکارڈ ضائع، پیرا فورس کو آپریشن مہنگا پڑگیا، وکلا برہم، گیٹ بند

ملتان (کرائم رپورٹر) ملتان کچہری میں پراسرار آگ لگنےسےسرکاری ریکارڈ ضائع ہوگیا، پیر ا فو ر س کوآپریشن مہنگاپڑگیا۔کارروائی پر وکلابرہم ہو گئے ، کچہری کے گیٹ بندکردیئے ،7گھنٹے باہر نکلنےنہ د یا ۔ سرکاری ریکارڈ کو آگ لگنے کا سلسلہ ملتا ن تک پہنچ گیا، کچہری کے ریکارڈ روم میں آتشزدگی ، ملتان کچہری میںگزشتہ صبح پانچ بجےسرکاری ریکارڈ روم میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں اکاؤنٹنٹ جنرل (اے جی) کے ماتحت دفاتر اور دیگر سرکاری ریکارڈ متاثر ہوگیا۔آگ کے باعث محافظ خانہ میں موجود سرکاری و نجی زمینوں کا پرانا ریکارڈ متاثر ہوا جبکہ تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور پٹواریوں سے متعلق اراضی ریکارڈ بھی لپیٹ میں آگیا۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس میں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین کی پنشن، تنخواہوں اور ٹھیکیداروں کے ٹینڈرز سے متعلق فائلیں بھی جل گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی ازکہ سحر کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جبکہ بچ جانے والے ریکارڈ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔واقعے کے بعد کچہری میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب پیرا فورس نے کینٹینوں کے خلاف آپریشن شروع کیا، جس پر وکلاء سراپا احتجاج بن گئے۔ ڈسٹرکٹ بار کی صدر بشریٰ نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ پیرا فورس کو کچہری میں آپریشن نہیں کرنے دیا جائے گا۔ وکلانے احتجاجاً کچہری کے مرکزی گیٹ کو تالے لگا کر بند کردیا اور پیرا فورس کی گاڑیوں کو اندر ہی روک لیا۔ صدر ڈسٹرکٹ بار کا کہنا تھا کہ آگ ڈپٹی کمشنر محافظ خانہ کے ریکارڈ روم میں لگی، اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکرٹری ملک سعادت حسین نے مطالبہ کیا کہ آگ لگنے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور کچہری کی کینٹینوں کا سامان واپس رکھا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپنی کرپشن چھپانے کیلئے خود ہی آگ لگائی گئی۔ وکلاء نے تقریباً سات گھنٹے تک پیرا فورس کی گاڑیوں کو گیٹ کے اندر روکے رکھا تاہم بعد ازاں مذاکرات کامیاب ہونے پر کینٹینوں کا سامان واپس اتار دیا گیا اور پیرا فورس خالی ہاتھ واپس روانہ ہوگئی۔ذرائع کے مطابق یہ بتایا جا رہا ہے کہ آگ اے جی آفس اور ضلعی محافظ خانہ کے درمیان واقع کینٹین میں رکھے فریزر میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے قریبی دفاتر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آتشزدگی کے باعث ضلعی محافظ خانہ میں موجود رجسٹریوں اور دیگر اہم سرکاری دستاویزات کو بھی نقصان پہنچا جبکہ اے جی آفس کے فرسٹ فلور پر موجود کمپیوٹرز، فائلیں اور سرکاری ریکارڈ جل گیا۔ریکارڈ برانچ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جس ریکارڈ کو آگ لگی وہ ’’ضائع شدہ ریکارڈ‘‘تھا جبکہ اصل اور اہم ریکارڈ محفوظ رہا۔ تاہم واقعے نے سرکاری دفاتر میں ریکارڈ کے تحفظ اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔حیران کن امر یہ ہے کہ یہ آگ بھی ماضی کے متعدد پراسرار آتشزدگی واقعات کی طرح صبح تقریباً پانچ بجے لگی، ایسے وقت میں جب بجلی کے میٹروں پر لوڈ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے واقعے کے بعد مختلف حلقوں میں شکوک و شبہات بھی جنم لینے لگے ہیں۔اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا، جس سے مزید نقصان سے بچا لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ شہریوں اور وکلا حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری دفاتر میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات کیے جائیں اور واقعے کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔دریں اثناکچہری میں آتشزدگی کے بعد کینٹین ہٹانے پر تنازع، وکلا اور انتظامیہ آمنے سامنے آگئے۔ملتان کچہری میں ریکارڈ روم میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے کچہری کے احاطے میں قائم کینٹین اور کاؤنٹرز کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے کینٹین کے خلاف آپریشن کے لیے پیرا فورس کو بھی طلب کر لیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔دوسری جانب وکلا برادری نے انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا۔ وکلا کا مؤقف تھا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات سے قبل یکطرفہ کارروائی مناسب نہیں۔ احتجاج کے دوران وکلا اور انتظامیہ آمنے سامنے آگئے۔کچہری کے اندر صورتحال کشیدہ ہونے پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ وکلا رہنماؤں نے کہا کہ انتظامیہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرے جبکہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ملتان کچہری میں ریکارڈ روم میں آگ لگ گئی تھی جس کے بارے میں ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ آگ اے جی آفس اور ضلعی محافظ خانہ کے درمیان قائم کینٹین میں موجود فریزر میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔ آگ کے نتیجے میں سرکاری ریکارڈ، کمپیوٹرز اور دیگر سامان متاثر ہوا تھا جبکہ ریسکیو اور فائر بریگیڈ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا تھا۔دریں اثناضلعی انتظامیہ کی جانب سے آتشزدگی کے واقعہ پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ اس سلسلے میں موقع پر آنے والے افسران کی جانب سے زبانی طور پر بتایا گیا کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ اس کا نوٹیفکیشن سامنے نہیں آ سکا۔ دوسری جانب این ٹی او برانچ اور اکاؤنٹس دفتر میں جلنے والے ریکارڈ بارے بھی کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

ضلع کچہری ملتان میں تین بارآگ لگ چکی،آج تک ذمہ دارکا تعین نہ ہوسکا

ملتان(کورٹ رپورٹر)ضلع کچہری ملتان میں آتشزدگی کے واقعات اور ریکارڈ جلنے کے واقعات کا تسلسل ختم نہیں ہو سکا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کچہری ملتان میں واقع رجسٹری برانچ اور اردو برانچ کا ریکارڈ روم 21 دسمبر 2016ء کی صبح کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھاجس میں ڈیڑھ سو سال تک کا پرانا ریکارڈ جل کر خاکستر ہو گیا تھا، حتیٰ کہ برانچ کی چھت گر گئی اور دیواریں ٹوٹ گئیں لیکن کسی ذمہ دار کا تعین نہیں ہو سکا۔ یہ آگ تین دن تک سلگتی رہی۔ اس کے بعد اسلحہ برانچ میں بھی علی الصبح آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں بھی کافی ریکارڈ جل گیا تھا، اس انکوائری میں ملوث کئے گئے تمام ملازم آج بھی ڈیوٹی پر موجود ہیں۔گزشتہ روزکچہری میں آگ لگنے کاتیسراواقعہ پیش آیاہے۔

انتظامیہ اور پولیس افسران آگ لگنے کا غصہ میڈیا پر اتارتے رہے، کوریج سے روکنے کی کوشش

ملتان(کورٹ رپورٹر) انتظامیہ اور پولیس افسران آگ لگنے کا غصہ میڈیا پر اتارتے رہے، کوریج سے روکنے کی کوشش پر تلخ کلامی کے واقعات رونما ہوئے۔ اس ضمن میں آگ لگنے کے بعد انتظامی اور پولیس افسران موقع پر پہنچے تو میڈیا کو کوریج کرنے سے روکا گیا اور روکنے کی وجہ نہ بتانے پر صحافیوں اور افسران کے مابین تلخ کلامی کے واقعات رونما ہوئے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں