منشیات کے عادی افراد کیلئے ملتان میں نئی زندگی کے دروازے کھل گئے، بحالی مراکز قائم

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت خصوصاً آئس اور خطرناک کیمیکل ڈرگز کے پھیلاؤ کے درمیان ملتان پولیس نے ایک ایسا انسان دوست اور مثالی اقدام شروع کیا ہے جس نے معاشرے کے ان افراد کو نئی زندگی دینے کی امید پیدا کر دی ہے جنہیں لوگ عموماً حقارت بھری نظروں سے دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ سڑکوں، چوکوں، فٹ پاتھوں اور پارکوں میں پڑے نشے کے عادی لاوارث افراد کو اب صرف مجرم یا بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں دوبارہ ایک باعزت شہری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملتان پولیس نے مختلف این جی اوز کے تعاون سے شہر میں متعدد ری ہیبلیٹیشن سنٹرز قائم کیے ہیں جہاں سڑک کنارے پڑے نشے کے عادی افراد کو ریسکیو کر کے منتقل کیا جاتا ہے۔ ان مراکز میں نہ صرف ان کا علاج کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی ذہنی و روحانی بحالی کے لیے باقاعدہ کونسلنگ،دینی تعلیم، ہنر سکھانے اور ڈرائیونگ ٹریننگ جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ دوبارہ معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں۔ اس وقت ملک بھر میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ چند دہائیاں پہلے تک محدود اقسام کے نشے دستیاب تھےمگر اب آئس، کرسٹل، مختلف کیمیکل پلز اور دیگر مہلک ڈرگز نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق آئس اور بعض کیمیکل ڈرگز انسانی دماغی خلیات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل کو بچانے کے لیے صرف کارروائیاں کافی نہیں بلکہ بحالی کے مراکز بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ ری ہیبلیٹیشن سنٹر کے اندر کا منظر ایک نئی امید کی تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ افراد جو چند ماہ پہلے تک گندگی، نشے اور بے بسی کی علامت سمجھے جاتے تھے، آج صاف ستھرے لباس ، بہتر ماحول میں منظم زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔ سنٹر پہنچنے کے بعد سب سے پہلے ان افراد کو نہلایا جاتا ہے، ان کے بال اور داڑھی تراشی جاتی ہے، انہیں صاف کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور پھر مرحلہ وار علاج شروع کیا جاتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں شدید نشے کے باعث کئی افراد کی حالت غیر متوازن ہوتی ہے، اس لیے انہیں خصوصی کمروں میں رکھا جاتا ہے جہاں ڈاکٹرز اور عملہ مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ جب حالت بہتر ہونے لگتی ہے تو انہیں عام وارڈز میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں انہیں باقاعدہ خوراک، ادویات اور نفسیاتی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ سنٹرمیں موجود افراد کو دن میں تین وقت معیاری کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک موقع پر دوپہر کے کھانے میں آلو گوشت اور میٹھے میں سویاں تقسیم کی جا رہی تھیں۔ حیران کن بات یہ تھی کہ چند ماہ پہلے تک سڑکوں پر پڑے یہ افراد اب ایک نارمل اور باوقار ماحول میں زندگی گزارتے دکھائی دے رہے تھے۔ یہاں موجود ایک شخص نے بتایا کہ اسےسنٹر آئے ایک ماہ سے زائد ہو چکا ہے اور اب وہ خود کو پہلے سے کہیں بہتر محسوس کرتا ہے۔ اس کے مطابق اسے مکمل علاج، معیاری کھانا اور عزت دی جا رہی ہے۔ اس نے کہا کہ اب وہ دوبارہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ نارمل زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ ایک اور نوجوان جو تقریباً بیس برس سے مختلف نشوں کا عادی رہا نے بتایا کہ اسے دو ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور اب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی بدل رہی ہے۔ اس نے جذباتی انداز میں کہا کہ یہاں آ کر اسے اپنے والدین کی تکلیف کا احساس ہوا اور اب اس نے ہمیشہ کے لیے نشہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسی طرح لودھراں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ وہ ایک سال سے زائد عرصے سے نشے میں مبتلا تھا مگرسنٹر آنے کے بعد اس کی صحت میں واضح بہتری آئی ہے۔ اس کے مطابق یہاں تین وقت کھانا، ادویات، کپڑے اور مکمل دیکھ بھال دی جا رہی ہے، جس سے اسے دوبارہ جینے کی امید ملی ہے۔سنٹر میں صرف علاج ہی نہیں بلکہ مثبت سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ دینی تعلیم کے لیے مدرس موجود ہیں جو قرآن پاک اور بنیادی اسلامی تعلیمات پڑھاتے ہیں۔ فارغ اوقات میں افراد کو لڈو اور دیگر انڈور گیمز دی جاتی ہیں جبکہ ٹی وی بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ ذہنی دباؤ سے باہر نکل سکیں۔ سکیورٹی خدشات کے باعث ابتدائی مرحلے میں آؤٹ ڈور سرگرمیاں محدود رکھی جاتی ہیں۔ اس منصوبے سے وابستہ سماجی کارکن رفیق احمد کے مطابق اس وقت مختلف سنٹرز میں درجنوں افراد زیر علاج ہیں جبکہ خواتین کے لیے الگ مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی نشے کے عادی افراد کو علاج کے بعد ان کے اہل خانہ کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ بعض والدین ابتدا میں اپنے بچوں کو قبول کرنے سے انکار کرتے تھے کیونکہ وہ گھر کا سامان بیچ چکے ہوتے تھےمگر علاج کے بعد جب وہ بہتر حالت میں واپس جاتے ہیں تو خاندانوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر نے اس حوالے سے بتایا کہ جب انہوں نے ملتان کا چارج سنبھالا تو شہر کے مختلف علاقوں، پارکوں اور شاہرائوں پر نشے کے عادی افراد کی بڑی تعداد دیکھی۔ ان کے مطابق یہ افراد نہ صرف خود تباہ ہو رہے تھے بلکہ نئی نسل پر بھی منفی اثر ڈال رہے تھے۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ری ہیبلیٹیشن سنٹرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سی پی او ملتان صادق ڈوگرکے مطابق اس وقت پانچ بڑے ری ہیبلیٹیشن سنٹر فعال ہیں جن میں سینکڑوں افراد کی گنجائش موجود ہے جبکہ اب تک بڑی تعداد میں افراد یہاں سے علاج کے بعد صحت مند زندگی کی طرف واپس لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 95 فیصد افراد علاج کے بعد دوبارہ نشے کی دنیا میں واپس نہیں گئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس صرف نشے کے عادی افراد کی بحالی پر ہی نہیں بلکہ منشیات فروشوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں کر رہی ہے۔ ملتان پولیس نے مختلف اضلاع اور صوبوں سے تعلق رکھنے والے متعدد منشیات فروش گینگز گرفتار کیے ہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں آئس سپلائی کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ سی پی او کے مطابق نوجوان نسل کو بچانے کے لیے سپلائی لائن ختم کرنا اور نشے کے عادی افراد کی بحالی دونوں اقدامات ایک ساتھ ضروری ہیں۔ اسی مقصد کے تحت سنٹرز میں ڈرائیونگ ٹریننگ بھی دی جا رہی ہے تاکہ صحت یاب ہونے والے افراد روزگار حاصل کر سکیں اور دوبارہ جرائم یا نشے کی طرف نہ جائیں۔ یہ اقدام اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نشے کے عادی افراد کو صرف سزا یا نفرت سے نہیں بلکہ علاج، توجہ، محبت اور بحالی کے ذریعے معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جا سکتا ہے۔ ملتان پولیس اور سماجی اداروں کی یہ مشترکہ کوشش نہ صرف کئی خاندانوں کو دوبارہ جوڑ رہی ہے بلکہ معاشرے کو ایک اہم پیغام بھی دے رہی ہے کہ اگر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو تباہ حال زندگیاں بھی دوبارہ سنور سکتی ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں