سندھ طاس معاہدہ: آبی بحران سنگین، نہری پانی کم، پنجاب کے کروڑوں کاشتکاروں سے دھوکا

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک بھر میں کاشت کاروں اور زمینداروں کے لیے نہری پانی کی مقدار میں 30 فیصد تک کمی واقع ہو چکی ہے اور اس صورتحال میں ٹیوب ویل کے زیادہ استعمال کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے جبکہ زمین کی زرخیزی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال جولائی، اگست اور ستمبر کے مہینوں میں دریائے سندھ پر موجود کوٹری بیراج جو کہ پاکستانی دریائوں پر آخری بیراج ہے کیونکہ اس سے گزر کر پانی سمندر میں جا گرتا ہے۔ کوٹری بیراج کے پیمانے کے مطابق گزشتہ سال جولائی، اگست اور ستمبر کے تین مہینوں میں ڈھائی سے تین کروڑ کیوسک پانی استعمال ہوئے بغیر سمندر میں چلا گیا کیونکہ کوٹری بیراج سے آگے کوئی بھی بیراج نہیں ہے لہٰذاکسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں۔ حکومت پاکستان کے پاس پانی کی آئے روز بڑھتی ہوئی قلت کا کوئی بھی فوری حل نہیں ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی ظالمانہ شرائط کا خمیازہ اب پورا پاکستان بھگت رہا ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق گزشتہ سال کے تین ماہ یعنی جولائی، اگست اور ستمبر میں پاکستان میں ڈیمز کی کمی کی وجہ سے اتنا پانی ضائع ہوا کہ اس سے کالا باغ ڈیم جیسے بڑے ڈیم 20 سے زائد مرتبہ بھرے جا سکتے تھے۔ اب حکومت پنجاب کے محکمہ انہار نے صوبہ بھر میں بیراجز اور ہیڈ ورکس کے پیمانوں میں کمی بیشی کرکے پانی کی پیمائش میں تبدیلیاں کر دی ہیں اور اب یہ محکمہ انہار کے پیمانے جو پانی کی پیمائش ظاہر کرتے ہیں اس مقدار سے 15 سے 20 فیصد کم پانی نہروں میں چھوڑا جا رہا ہے جبکہ سرکاری اعداد و شمار اور پیمانے سرکاری کھاتوں میں پورا پانی دکھا رہے ہیں اور پیمائش کا یہ فرق محکمہ انہار کھلے عام پنجاب کے کروڑوں کاشتکاروں کے ساتھ کر رہا ہے۔ روزنامہ قوم کو ملنے والی معلومات کے مطابق گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں کچھ دن ایسے بھی گزرے جب کوٹری بیراج سے ایک دن میں تین سے چار لاکھ کیوسک سے زائد پانی ضائع ہو کر دریائے سندھ سے گزرتا ہوا سمندر کا حصہ بنتا رہا اور دنیا بھر میں دریائی پانی کے اتنے بڑے پیمانے پر ضائع ہونے کی اتنی بدترین مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔ روزنامہ قوم کو موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق صرف 28 ستمبر 2025 کے روز کوٹری بیراج سے تین لاکھ 83 ہزار کیوسک پانی ضائع ہو کر سمندر کا حصہ بنا۔ سندھ طاس معاہدے کے 40 سال بعد بھی جب پاکستان معاہدے کی شقوں کی روشنی میں ڈیم نہ بنا سکا تو بھارت نے اپنے علاقے میں چند ہی سالوں میں مجموعی طور پر 50 سے زائد ڈیم انہی دریاؤں پر بنا لئے اور اپنے راجستھانی علاقے کے لاکھوں ایکڑوں کو سیراب کر لیا۔ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان اسی وجہ سے اپنا مقدمہ ہالینڈ میں واقع عالمی عدالت سے ہار گیا کہ پاکستان نے دریائی پانی کو 40 سال تک استعمال میں لانے اور محفوظ کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے اور قانون کے مطابق جب 40 سال تک پاکستان نے اپنے فاضل دریائی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے ذخائر نہیں بنائے تو اپر سٹریم کے ملک یعنی بھارت کو عالمی قوانین کے تحت یہ حق حاصل ہو گیا کہ وہ پورے بھارت میں اپنے دریائی علاقے میں جتنے چاہے ڈیم بنا لے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت اب تک 54 ڈیمز بنا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت نے عالمی عدالت میں پاکستانی بیراجز کے تمام تر پیمائشی پیمانے یعنی گیجز کی ریڈنگ کو بطور ثبوت پیش کیا کہ پاکستانی لاکھوں کیوسک پانی 40 سال سے زائد عرصہ سے سمندر میں ضائع کر رہے ہیں اور اس عرصے کے دوران وہ نہ تو دریائی پانی کو استعمال کر سکے اور نہ ہی محفوظ کر سکے تو عالمی قوانین کی روشنی میں اپ سٹریم پر واقع بھارت کو یہ حق حاصل ہو گیا کہ وہ دریائی پانی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر سکے اور اس طرح پاکستان نے اپنی کوتاہی سے اپنے آبی حقوق کھو دیئے۔ سالہا سال کی قومی سطح کی غیر مستقل مزاجی نے یہ دن دکھا دیئے اور بدقسمتی سے اس سنگین نوعیت کی کوتاہی میں پاکستان کی تمام حکومتیں شامل رہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں