جامعہ زکریا: 2 روزہ سلیکشن بورڈ آج شروع، اے ایس پر انتظامیہ کو یرغمال بنانے کے الزامات

ملتان (خصوصی رپورٹر) بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سلیکشن بورڈ کا دو روزہ اجلاس آج سے شروع ہوگا ،ترقیوں اور تقرریوں کا تفصیلی ایجنڈا جاری، اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن پر نوازشات اور انتظامیہ کو یرغمال بنانے کے الزامات سامنے آگئے۔ تفصیل کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے سلیکشن بورڈ کا اہم دو روزہ اجلاس 14 اور 15 مئی 2026 کو یونیورسٹی کیمپس میں منعقد ہوگا جس میں معیاد شدہ اساتذہ کی اعلیٰ عہدوں پر ترقیوں، مختلف شعبوں میں اسسٹنٹ پروفیسرز کی مستقل تقرریوں کے انٹرویوز، نیز انتظامی عہدوں پر ترقیوں کے معاملات پر غور کیا جائے گا۔آج ایجنڈے کے آئٹم نمبر 1 تا 18 پر کارروائی ہوگی۔ پہلے روز انسٹی ٹیوٹ آف ایگرونومی کے پانچ معیاد ایسوسی ایٹ پروفیسرز ڈاکٹر نعیم سرور، ڈاکٹر احمد شیر، ڈاکٹر محمد اعجاز، ڈاکٹر اللہ وسایا اور ڈاکٹر توقیر احمد یاسر کو ٹی ٹی ایس پروفیسر کے اعلیٰ عہدے پر ترقی دینے کے معاملات پیش کیے جائیں گے۔ اسی روز شعبہ اینٹومولوجی کے ڈاکٹر محمد بنیامین، شعبہ پلانٹ پیتھالوجی کے ڈاکٹر محمد عابد، شعبہ باغبانی کی ڈاکٹر شغف اعجاز، انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر بائیولوجی اینڈ بائیوٹیکنالوجی کے ڈاکٹر محمد عمران قادر اور ڈاکٹر سمیرا رسول، انسٹی ٹیوٹ آف فزکس کے ڈاکٹر عبدالشکور، نیز شعبہ شماریات کے ڈاکٹر محمد احمد شہزاد کی ترقیوں پر بھی غور کیا جائے گا جبکہ مختلف شعبوں میں اسسٹنٹ پروفیسر کی مستقل تقرریوں کے لیے انٹرویوز بھی ہوں گے۔ انسٹی ٹیوٹ آف ایگرونومی میں پروفیسر آف ایگرونومی (TTS) کے ایک عہدے کے لیے دو امیدوار، شعبہ زرعی انجینئرنگ میں دو مستقل عہدوں کے لیے 11 امیدوار، انسٹی ٹیوٹ آف فزکس میں ایک عہدے کے لیے دس امیدوار، شعبہ شماریات میں دو عہدوں کے لیے بیس امیدوار، شعبہ مائیکرو بائیولوجی میں ایک عہدے کے لیے چھ امیدوار اور ریاضی کے دو عہدوں کے لیے 20 امیدوار انٹرویو دیں گے۔دوسرےروز 15 مئی کو آئٹم نمبر 19 سے 31 تک کے امور طے پائیں گے۔ اس روز ڈاکٹر عاطف نثار احمد، ایسوسی ایٹ پروفیسر آف مائیکرو بائیولوجی، شعبہ پیتھو بائیولوجی کو ٹی ٹی ایس پروفیسر اور ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق، اسسٹنٹ پروفیسر (TTS)، شعبہ لائیو سٹاک اینڈ پولٹری پروڈکشن کو ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی دینے کی سفارشات پیش کی جائیں گی۔ ڈپٹی رجسٹرار، ڈپٹی ٹریژرر اور ڈپٹی کنٹرولر آف ایگزامینیشنز (BS-18) کو ایڈیشنل رجسٹرار، ایڈیشنل ٹریژرر اور ایڈیشنل کنٹرولر (BS-19) کے عہدوں پر ترقی دینے کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔ اس کے علاوہ 15 مئی کو متعدد شعبوں میں اسسٹنٹ پروفیسر کی مستقل تقرریوں کے لیے انٹرویوز ہوں گے۔شعبہ جینڈر اسٹڈیز میں ایک عہدے کے لیے تین، شعبہ جیوگرافی میں ایک عہدے کے لیے چھ، شعبہ پولیٹیکل سائنس میں ایک عہدے کے لیے نو، شعبہ ایجوکیشن میں ایک عہدے کے لیے دس، شعبہ اپلائیڈ سائیکالوجی میں دو عہدوں کے لیے آٹھ، شعبہ سپورٹس سائنس میں ایک عہدے کے لیے سات، سرائیکی ایریا اسٹڈی سینٹر میں اسسٹنٹ پروفیسر آف سرائیکی کے ایک عہدے کے لیے دو، شعبہ فارماسیوٹکس میں ایک عہدے کے لیے آٹھ، اور BZU کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں اسسٹنٹ پروفیسر آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ کے ایک عہدے کے لیے تین امیدوار انٹرویو دیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر مختلف انسٹی ٹیوٹس، سینٹرز اور کانسٹیٹیوینٹ کالجز کے لیے مقامی اور غیر ملکی ماہرین کی فہرستوں کی منظوری بھی دی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق تمام سفارشات متعلقہ کمیٹیوں کے جائزے کے بعد پیش کی جائیں گی اور حتمی منظوری کے بعد تقرریوں اور ترقیوں کے احکامات جاری کردیے جائیں گے دوسری جانب اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن پر شدید الزامات سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے ایس اے کے صدر نے اپنا کیس جو پہلے سلیکشن بورڈ میں ملتوی ہوگیا تھا اس کو فائنل کیا ہے جبکہ باقی کیسز کو ایک بار پھر موخر کرا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ٹنور ٹریک اساتذہ کی سیٹیں نہ ہونا بتایا جارہا ہے جبکہ ماضی میں ٹینور ٹریک اساتذہ کے کیسز کی منظوری ہوجاتی تھی اور آئندہ بجٹ میں یہ سیٹیں کریٹ کر لی جاتی تھیں اب پنجاب حکومت کی پابندی کی وجہ سے نئی اسامیاں پیدا نہیں کی جا سکتیں اساتذہ کو ان اسامیوں کو اپ گریڈ کرنے کا لولی پاپ دیا جارہا ہے جس کا یونیورسٹی کلینڈر میں کوئی راستہ نہیں ہے ایسا لگتا ہے کہ اے ایس اے نے یونیورسٹی انتظامیہ کو یرغمال بنالیا ہے اور من پسند فیصلے کرائے جارہے ہیں انہوں نے وائس چانسلرسے مطالبہ کیا ہے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور سلیکشن بورڈ میں میرٹ کو یقینی بنائیں ۔

شیئر کریں

:مزید خبریں