پٹرولیم لیوی سے حکومتی آمدن میں بڑا اضافہ، آئی ایم ایف سے بجٹ مذاکرات آج شروع ہوں گے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ وصولیاں حاصل کرلیں، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی مالی صورتحال کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے مارچ تک حکومت نے پٹرولیم لیوی سے 1.205 کھرب روپے جمع کیے، جو گزشتہ مالی سال کی مجموعی وصولیوں کے قریب ہیں۔ اس عرصے میں پٹرول استعمال کرنے والا ہر شہری فی لیٹر تقریباً 117.5 روپے مختلف لیویز کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پٹرولیم لیوی میں غیر معمولی اضافے، شرح سود میں نمایاں کمی اور صوبوں کے بڑے مالی سرپلس کے باعث حکومت کی مالی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، جس سے آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ مذاکرات میں پاکستان کو فائدہ مل سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا وفد آج سے پاکستان کے ساتھ نئے مالی سال کے بجٹ اہداف پر بات چیت شروع کرے گا۔ مذاکرات صرف بجٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرکاری شعبے میں حکومتی کردار کم کرنے، شوگر سیکٹر میں اصلاحات اور مختلف قوانین میں ترامیم کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
آئندہ مالی سال کے لیے محصولات اور اخراجات کے نئے اہداف طے کیے جائیں گے جبکہ آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتوں سے بھی مذاکرات ہوں گے تاکہ وہ اگلے مالی سال میں 1.64 کھرب روپے کا کیش سرپلس اور تقریباً 1.78 کھرب روپے کے ٹیکس اہداف حاصل کرسکیں۔
حکومت نے گزشتہ بجٹ میں مجموعی مالی خسارے کا ہدف جی ڈی پی کے 3.9 فیصد کے برابر رکھا تھا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خسارہ 3.2 فیصد تک محدود رہے گا، جو ابتدائی اندازوں سے تقریباً 900 ارب روپے بہتر ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر مالی صورتحال کے باوجود عوام کو خاطر خواہ ریلیف فراہم نہیں کیا گیا اور ٹیکسوں کا بوجھ برقرار رکھا گیا۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں بنیادی بجٹ سرپلس جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی بجٹ خسارہ صرف 856 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا۔
چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر 1.63 کھرب روپے کا کیش سرپلس دیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں سب سے بڑا حصہ پنجاب کا رہا جس نے 824 ارب روپے فراہم کیے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد کو 2028 کے بعد سود سے پاک مالیاتی نظام کے حوالے سے حکومتی حکمت عملی پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے بجلی کی ہدفی سبسڈی کے منصوبے پر پیش رفت بھی شیئر کی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں