ملتان (سٹاف رپورٹر) بہا الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے انسٹیٹیوٹ آف فزکس میں تدریسی نظام پر ایک اور سنگین سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا، بی ایس فزکس آٹھویں سمسٹر کے طلبہ نے اپنے ہی استاد کے خلاف باضابطہ شکایتی درخواست دے کر یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی، تدریسی معیار اور طلبہ کے ساتھ مبینہ غیر مناسب رویوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ طلبہ کی جانب سے دی گئی تحریری درخواست نے یہ تاثر مزید مضبوط کردیا ہے کہ بعض جامعات میں اساتذہ کی نگرانی، احتساب اور تدریسی کارکردگی کا نظام تقریباً مفلوج ہوچکا ہے۔ طلبہ نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ لیزر کورس پڑھانے والے ڈاکٹر محمد جنید اقبال کی تدریس کا انداز نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے بھی خطرہ بنتا جارہا ہے۔ درخواست کے مطابق کلاس روم میں صورتحال اس حد تک غیر سنجیدہ رہی کہ استاد خود لیکچر دینے کے بجائے تحریری نوٹس کلاس نمائندے سے پڑھواتے رہے جبکہ طلبہ کو مشکل سائنسی تصورات کی وضاحت تک فراہم نہیں کی گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر طلبہ کو نوٹس ہی خود پڑھنے تھے تو پھر یونیورسٹی لاکھوں روپے تنخواہیں کس چیز کی دے رہی ہے؟ شکایت میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ پورے سمسٹر پر مشتمل چھ ابواب کا کورس مڈ ٹرم امتحانات سے پہلے ہی برق رفتاری سے ختم کردیا گیا جس کے باعث طلبہ کو نہ مضمون سمجھ آیا اور نہ ہی تیاری کا مناسب موقع مل سکا۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ عمل محض’’کورس نمٹانے‘‘کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہےجس میں طلبہ کی ذہنی استعداد، سیکھنے کے عمل اور تحقیقی تربیت کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ طلبہ نے مزید الزام لگایا کہ کلاس روم کا ماحول کئی مواقع پر خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار رہا۔ درخواست کے مطابق بعض اوقات نامناسب زبان استعمال کی گئی جبکہ بار بار یہ تاثر دیا گیا کہ طلبہ کو امتحانی کارکردگی سے قطع نظر فیل کردیا جائے گا۔ اس قسم کے بیانات نہ صرف تدریسی اخلاقیات کی کھلی خلاف ورزی سمجھے جاتے ہیں بلکہ یہ طلبہ کی ذہنی صحت اور اعتماد پر بھی سنگین اثرات مرتب کرتے ہیں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ کلاس کے معاملات اور طلبہ کی سرگرمیوں میں غیر ضروری مداخلت کی گئی جسے طلبہ نے غیر پیشہ ورانہ رویہ قرار دیا۔ فائنل ایئر کے طلبہ نے خبردار کیا کہ اگر اس کورس میں ناکامی ہوئی تو ان کی ڈگری میں توسیع ہوسکتی ہے جس سے ان کے مستقبل، کیریئر اور مالی حالات شدید متاثر ہوں گے۔ یہ معاملہ صرف ایک استاد یا ایک کلاس تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کی اعلیٰ جامعات میں گرتے ہوئے تدریسی معیار، خوف پر مبنی تعلیمی ماحول اور طلبہ کی بے بسی کی ایک تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یونیورسٹی انتظامیہ اس شکایت پر شفاف تحقیقات کرے گی یا حسب روایت معاملہ دبا کر طلبہ کو ہی خاموش رہنے کا مشورہ دیا جائے گا؟ اندرونی ذرائع کے مطابق نئے تعینات ہونے والے ڈائریکٹر کا ایڈمنسٹریٹو تجربہ نہ ہونے کے باعث ڈیپارٹمنٹ میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اور اس کی بنیادی وجہ کورسز کا غیر متعلقہ ٹیچرز سے پڑھوانا ہے۔







