غازی یونیورسٹی میں تقریبات پر پابندی تفریح دورے، فیئر ویل پارٹیز بھی بند

ملتان (سٹاف رپورٹر) غازی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں بڑھتی ہوئی بے ضابطگیوں، غیر ضروری تقریبات اور طلبہ سے فنڈز اکٹھے کرنے کے رجحان کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سخت ترین پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری ہونے والے باضابطہ سرکولر میں وائس چانسلر کی ہدایات پر تمام شعبہ جات، اساتذہ اور طلبہ کو واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ اب کسی بھی قسم کی پارٹی، فیئر ویل، جشن یا غیر نصابی تقریب کے انعقاد کی اجازت نہیں ہوگی، چاہے وہ کیمپس کے اندر ہو یا باہر۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق کسی بھی ڈیپارٹمنٹ، کلاس یا طلبہ گروپ کی جانب سے فنکشنز، تقریبات یا دیگر سرگرمیوں کے لیے چندہ یا فنڈ جمع کرنا سنگین بدانتظامی تصور کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف یونیورسٹی قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب مختلف تقریبات کے نام پر طلبہ سے بھاری رقوم وصول کیے جانے اور تعلیمی ماحول متاثر ہونے کی شکایات مسلسل موصول ہو رہی تھیں۔ سرکولر میں ملک میں جاری کفایت شعاری پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے تمام مطالعاتی دوروں، تفریحی ٹرپس اور ریکریشنل وزٹس پر بھی فوری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام یونیورسٹیوں میں بڑھتی ہوئی غیر تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ پر اضافی مالی بوجھ اور نظم و ضبط کی خراب صورتحال پر انتظامیہ کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس فیصلے کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ بعض اساتذہ اور والدین نے اس اقدام کو نظم و ضبط کی بحالی اور طلبہ کے مالی استحصال کو روکنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ طلبہ کے ایک حلقے نے مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح کی مکمل پابندیاں جامعات میں مثبت سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارے کے تقدس، تعلیمی ماحول اور قواعد و ضوابط کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں