ملتان (رپورٹ: شاہد راجپوت)پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو)اور سپورٹس افسران کی ملی بھگت کے نتیجے میںملتان ڈویژن کے 6 مختلف شہروں کے جمنیزیم میں 50 کروڑ کی اپ گریڈیشن منصوبہ میں ناقص میٹریل، الیکٹریکل وائرنگ، فرش اور وینٹیلیشن جیسی بنیادی خامیاں برقرارڈویژنل سپورٹس آفیسر نے رپورٹ ڈی جی سپورٹس کو ارسال کر دی پنجاب سپورٹس بورڈ کی جانب سے ملتان ڈویژن کے 6 شہروں وہاڑی، ملتان ،خانیوال، لودھراں ، میلسی اور بورےوالا کے انڈور اسپورٹس کمپلیکس میں تقریباً 50 کروڑ روپے سے جاری اپ گریڈیشن منصوبہ معیار اور حفاظتی معیارات کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق کام میں ناقص تعمیراتی مواد کے ساتھ ساتھ متعدد تکنیکی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس سے یہ جدید ترین سہولت کے دعویدار جمنیزیم کسی بڑے حادثے کو دعوت دیتے دکھائی دے رہے ہیںاپ گریڈیشن کے باوجود جمنیزیم کی چھت سے بارشوں میں پانی ٹپکنے کا مسئلہ جُوں کا تُوں ہے۔اس حوالے سے ڈویژنل سپورٹس آفیسر عطاء الرحمان خان نے وہاڑی جمنیزیم کی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل پنجاب سپورٹس بورڈ کو ارسال کردی ہے ذرائع کے مطابق بارشوں کے باعث ملتان جمنیزیم کی چھت سے پانی بہنا شروع ہو گیا تھا جیسے پولی تھیلین اور عارضی چادروں سے پانی روکا جا رہا ہے، جبکہ معاہدے میں واٹر پروفنگ ماسٹک اور ایپوکسی کوٹنگ بھی شامل تھی، لیکن ٹھیکیدار نے پی ایم یو انجینئر ملی بھگت کے باعث انتہائی کمتر سطح کا سلیکون اور پرانی پرت پر نیچرل ربڑ چھڑک کر کام ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ نتیجتاً دیواروں میں نمی کے باعث پلاسٹر اُترنے کا اندیشہ ہے ، زرائع نے مزید بتایا کہ جمنیزیم کی نئی الیکٹریکل وائرنگ کے بجائے پرانی تاروں کو ٹیپ اور چپکنے والے مادوں سے جوڑ کر چھپانے کا سستا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ بجلی کے تاروں کے لیے خطرناک حد تک کم صلاحیت کے پی وی سی پائپ (عوامی وائرنگ کے برعکس انڈسٹریل معیار کے مطابق نہیں) استعمال کیے گئے ہیں۔ ایسے میں جب کھلاڑی بیک وقت پنکھے، لائٹس اور اسکور بورڈ استعمال کریں گے، شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کا شدید خطرہ ہے۔ ایک ماہر نے بتایا کہ “مین سرکٹ بریکرز کی گنجائش ضرورت سے 40 فیصد کم ہے، اور کوئی تھرمل سینسر موجود نہیں۔”انڈور گیمز کے لیے فرش پر المونیم ٹریسل اور صرف ایک انچ ربڑ شیٹ بچھائی جا رہی ہے، جبکہ عالمی معیارات کے مطابق بیڈمنٹن، باسکٹ بال اور والی بال کے لیے کم از کم 2.5 سے 3 انچ شاک ابزوربنٹ ربڑ کی تہہ اور اسپرنگ لیسٹڈ ووڈن سب فلور لازمی ہوتا ہے۔جمنیزیم میں ایئر ہینڈلنگ یونٹس کی جگہ سستی ایگزاسٹ پنکھے لگا دیے گئے ہیں۔ مرکزی ہال کے لیے ڈیزائن کردہ ڈکٹڈ اے سی کو چھوڑ کر صرف دو وال ماؤنٹڈ اے سی لگانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے، جو گرمیوں میں 300 سے زائد تماشائیوں اور کھلاڑیوں کے ساتھ ناکافی ہے۔ نمی پر قابو نہ پانے کے باعث فرش پر پھسلن اور کھلاڑیوں میں ہیٹ اسٹروک کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔چھت کے زنگ آلود شہتیروں (گِردرز) کو تبدیل کرنے کے بجائے صرف ایک پرت پینٹ کر دی گئی۔ ویسا ہی ناقص معیار کا کندہ نصب کیا جا رہا ہے جو زلزلے یا معمولی جھٹکے پر گر سکتا ہے۔ بات صرف چھت تک محدود نہیں، جمنیزیم کے مغربی سائیڈ پر پانی کی لائنز اور سیوریج پائپس کی جگہ بہت ہی کمتر معیار کے پولی تھیلین پائپ ڈالے گئے ہیں، جو تھوڑے سے پریشر میں پھٹ سکتے ہیں۔ لاکر رومز کے ٹائلز کے نیچے کوئی گراؤٹ نہیں ہے، جس سے پانی دیواروں کے اندر پھرنے کا خدشہ بھی ہے۔قومی سطح کے ایک بیڈمنٹن کھلاڑی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا پہلے بھی”ہمیں بوٹ لگا کر پریکٹس کرنی پڑتی ہے کیونکہ چھت سے پانی گرتا تھا اور فرش پھسلن والا ہو جاتا ہے۔ بجلی کی وائرنگ تو ہمیں ڈراتی ہے۔ اپ گریڈیشن کے بعد بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا لگتا ہے کروڑوں روپے کہاں خرچ ہو رہے ہیں ،پنجاب سپورٹس بورڈ کے ایک افسر کا کہنا تھا کہ “تمام کام نگران کمیٹی کی نگرانی میں ہو رہا ہے اور تکنیکی حصے پر انجینئرز کام کر رہے ہیں،” لیکن جب ان سے متعلقہ مشینری ٹیسٹ رپورٹس اور مادی جانچ کی سرٹیفکیٹس مانگی گئیں تو وہ ٹال گئے۔یہ اپ گریڈیشن پیشہ ورانہ کھیلوں کے لیے نہیں بلکہ صرف رسمی چہرہ صاف کرنے کی ایک کوشش لگتی ہے۔ اگر ان تکنیکی خامیوں پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ جمنیزیم نہ صرف کروڑوں روپے کا ضیاع ثابت ہوگا بلکہ کھلاڑیوں کی صحت اور جان کے لیے براہِ راست خطرہ بن جائے گا۔تمام حلقوں نے سپورٹس بورڈ اور کنسٹرکشن انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ کام فوری روک کر ان تمام تکنیکی معاملات پر آزاد ماہرین سے معائنہ کرایا جائے اور شفاف کارروائی کی جائے۔







