ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک کی سرکاری سطح کی یونیورسٹیاں جہاں والدین اپنے بچوں اور بچیوں کو اعلیٰ تعلیم، کردار سازی اور محفوظ تعلیمی ماحول کی امید کے ساتھ بھیجتے ہیں، وہاں اب تعلیمی اداروں میں “ڈانسنگ، گلوکاری اور ایکٹنگ” کے آڈیشنز کے ادارہ جاتی سرپرستی میں انعقاد نے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سکول آف اکنامکس، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے منسوب ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے والدین، سماجی حلقوں اور تعلیمی طبقے میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی، والدین نے روزنامہ قوم کی توجہ اس جانب دلائی جس میں سکول آف اکنامکس ایگزیکٹو کلب میں آرٹس کلب ایڈیشن کے عنوان سے رقص، گلوکاری اور اداکاری کے آڈیشنز کا اعلان کیا گیا ہے۔ پوسٹ کے مطابق یہ آڈیشن آج 11 مئی 2026 کو یونیورسٹی کے ایم فل روم میں منعقد ہو رہا ہے جبکہ رابطے کے لیے ایک طالبعلم رہنما کا نمبر بھی سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا۔ جب مذکورہ نمبر پر رابطہ کیا گیا تو متعلقہ طالبعلم نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام سرگرمیاں “یونیورسٹی انتظامیہ کی باقاعدہ منظوری” سے ہو رہی ہیں اور پروگرام طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہونا ہے۔ مزید حیران کن انکشاف اس وقت سامنے آیا جب اس طالبعلم سے پوچھا گیا کہ اس پورے پروگرام کی نگرانی کون کر رہا ہے، تو اس نے کہا کہ “ڈاکٹر رشید بطور ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئرز اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔” اس موقف کے بعد سوال یہ اٹھنے لگا کہ آیا ایک سرکاری جامعہ میں تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے رقص، اداکاری اور گلوکاری کے باقاعدہ آڈیشنز اب ادارہ جاتی سرپرستی میں کروائے جا رہے ہیں؟ روزنامہ قوم نے جب ڈاکٹر رشید سے اس معاملے پر مؤقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ “یہ ڈرامیٹک کلب اپنے طور پر کروا رہا ہو گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ والدین اپنے بچوں کو یونیورسٹی تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں یا ڈانسنگ اور گلوکاری کے مقابلوں کے لیے، تو انہوں نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کیونکہ میرے علم میں نہیں۔ روزنامہ قوم کی طرف سے دوبارہ اسی طالبعلم سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ “ڈاکٹر رشید کی طرف سے ابھی ابھی فون پر حکم دیا گیا ہے کہ فوراً پوسٹ ڈیلیٹ کرو اور پروگرام کو روکنے کے احکامات بھی جاری کر دیے۔ اس بارے میں ڈائریکٹر سکول آف اکنامکس ڈاکٹر محمد رمضان سے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر ان کا جواب موصول نہ ہو سکا۔ ایک طالبہ کے والد کا کہنا ہے کہ یہ شرمناک عمل ہے اور نہ جانے یونیورسٹی انتظامیہ خاموش کیوں ہے۔ والدین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک پروگرام کا نہیں بلکہ جامعات کے بدلتے ہوئے تعلیمی اور اخلاقی ماحول کا ہے، جہاں نصابی و تحقیقی معیار کے بجائے غیر نصابی سرگرمیوں کے نام پر ایسے پروگراموں کو فروغ دیا جا رہا ہے جن پر والدین شدید تحفظات رکھتے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا جامعات اب علمی مراکز کے بجائے “انٹرٹینمنٹ کلبز” میں تبدیل کی جا رہی ہیں؟ اور اگر واقعی ایسی سرگرمیوں کی اجازت دی جا رہی ہے تو اس کی پالیسی، قواعد و ضوابط اور اخلاقی حدود کیا ہیں؟ والدین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ جامعات کا تقدس اور والدین کا اعتماد بحال رہ سکے۔







