ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-ملکی مسائل کی جڑ آئین پر عمل نہ ہونا ہے، موجودہ نظام ہی مؤثر ہے: رانا ثنا اللہ-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-"مسلمان ہونے پر فخر ہے، پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتی ہوں"، راکھی ساونت-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-تھانے کے اندر خاتون سے مبینہ زیادتی، اے ایس آئی گرفتار، ایس ایچ او سمیت 78 اہلکار معطل-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-کشمیر میں حکومت سازی، نواز شریف نے کابینہ سے متعلق پارٹی پالیسی واضح کر دی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی-ڈپٹی کمشنر ملتان کا بڑا ایکشن، چیف وارڈن سول ڈیفنس اسد اللہ کھیڑا ڈی نوٹیفائی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر کارروائی

تازہ ترین

طاقت کی جنگ، چانسلر، وی سی اور سنڈیکیٹ اختیارات پر شدید قانونی ابہام

ملتان (سٹاف رپورٹر) ملک کی ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی میں اختیارات کی کھینچا تانی نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے جہاں “ایڈیشنل چارج” دینے کے معاملے پر قانونی تشریح نے انتظامی بحران کو جنم دے دیا۔ اندرونی اجلاس میں ہونے والی گفتگو منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آخر اصل اختیار کس کے پاس ہے، — چانسلر، وائس چانسلر یا سنڈیکیٹ؟ ذرائع کے مطابق اجلاس میں واضح طور پر کہا گیا کہ کسی بھی اہم عہدے جس پر تقرری کا اختیار چانسلر کے پاس ہو، پر “ایڈیشنل چارج” دینے کا اختیار بھی چانسلر کے پاس ہو گا اور اس اختیار کو کوئی دوسرا استعمال نہیں کر سکتا۔ تاہم دوسری جانب وائس چانسلر کے اختیارات سے متعلق ایک “جنرل کلاز” کو بنیاد بنا کر یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ وہ اپنی انتظامی حدود میں رہتے ہوئے کسی کو عارضی ذمہ داری دے سکتے ہیں۔ یہی تضاد اس وقت تنازع کی جڑ بن چکا ہے۔ قانونی ماہرین نے اس معاملے کو مزید الجھا دیا۔ اجلاس میں موجود گورنمنٹ آف پنجاب کے لا آفیسر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ متعلقہ کلاز “سپر سیڈنگ” نہیں ہے، یعنی وہ کسی واضح قانونی شق کو ختم یا اس پر غالب نہیں آتی۔ اگر قانون میں صاف لکھا ہے کہ کسی پوسٹ پر تقرری کا مجاز صرف چانسلر ہے تو پھر ایڈیشنل چارج بھی وہی دیں گے۔ اس حوالے سے لا ڈیپارٹمنٹ کی تحریری رائے بھی موجود ہونے کا انکشاف کیا گیا، جس نے وائس چانسلر کے اختیارات پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔ دوسری جانب سابقہ انتظامیہ کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں متعدد تقرریاں سنڈیکیٹ کے ذریعے کی گئیں، اور ان کی منظوری بھی دی گئی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سنڈیکیٹ ایک “اوور رائیڈنگ اتھارٹی” کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل خود قانون کی روح کے منافی ہو سکتا ہے اور اختیارات کی تقسیم کو دھندلا دیتا ہے۔ اجلاس میں موجود اعلیٰ شخصیات اور قانونی ماہرین کی موجودگی سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ ادارے کے اندر اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ حیران کن طور پر لاء ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف پنجاب کی واضح پالیسی ہے کہ ایڈیشنل چارج بھی اسی اتھارٹی کی منظوری سے دیا جائے گا جس کو اس پوسٹ پر ریگولر تعیناتی کا اختیار ہو گا جس سے تعلیمی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اس غیر قانونی عمل کو دور نہ کیا گیا تو نہ صرف انتظامی معاملات متاثر ہوں گے بلکہ ادارے کی ساکھ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اب نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ آیا چانسلر اس معاملے پر واضح اور حتمی فیصلہ دیں گے یا یہ تنازع مزید طول پکڑ کر ایک بڑے ادارہ جاتی بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں