ملتان: غیر رجسٹرڈ رکشوں کی بھرمار، قانون رونددیا، وارڈنز، سیف سٹی کیمرے ناکام

ملتان(سپیشل رپورٹر)ملتان کی سڑکوں پر بغیر نمبر پلیٹ کے رکشوں کی بھرمار دن بھی اور رات بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ شہریوں کے مطابق یہ رکشے نہ صرف ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں بلکہ شہر کے سکیورٹی نظام کو بھی کھلا چیلنج پیش کر رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی کے ساتھ کسی رکشے میں کوئی واردات ہو جائے یا کوئی حادثہ پیش آ جائے تو متاثرہ شخص کے پاس شکایت درج کروانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو رکشے کی شناخت ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی ملزم تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ صورت حال عوام میں شدید بے چینی اور بے چارگی کا باعث بنی ہوئی ہے۔سوال یہ ہے کہ جب شہر میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے جدید ترین مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمروں کی بھرمار ہے اور لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ نظام نصب کیا گیا ہے تو پھر یہ بغیر نمبر پلیٹ والے رکشے کیسے نظر انداز ہو رہے ہیں؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں سے جب ان گاڑیوں کی نگرانی نہیں ہوتی تو پھر اس جدید ٹیکنالوجی کا کیا فائدہ؟ عوام یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ کیمروں کی موجودگی کے باوجود یہ رکشے دن اور رات کھلے عام دوڑ رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گویا انتظامیہ نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور یہ سب کچھ ایک تماشے کی طرح دیکھا جا رہا ہے۔ادھر پولیس اور انتظامیہ کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے۔ ٹریفک پولیس اور سیف سٹی حکام کی جانب سے کبھی تو یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کا نیا اے آئی پر مبنی سمارٹ ٹریکنگ سسٹم خاص طور پر ایسی گاڑیوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جن کے نمبر پلیٹس نہ ہوں یا جن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام گاڑی کے سٹیکرز، ڈیزائن، کلر اور ساخت کی بنیاد پر شناخت کر سکتا ہے۔ دوسری جانب پنجاب بھر میں لاکھوں چالان اور بھاری جرمانے وصول کرنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملتان کی سڑکیں ان دعوؤں کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہیں کیونکہ بغیر نمبر پلیٹ کے رکشے آج بھی اسی طرح چل رہے ہیں جیسے کوئی پابندی ہی نہ ہو۔شہریوں کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کے پیچھے یا تو نظام کی ناکامی ہے یا پھر جان بوجھ کر عدم توجہی۔ دونوں صورتوں میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ جب جدید ترین کیمروں میں اتنی صلاحیت ہے جتنی حکام بتاتے ہیں تو پھر یہ رکشے کیمرے کی آنکھ میں کیوں نہیں آ رہے؟ کیا یہ خامیاں دور کرنے کی بجائے صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود رہ گیا ہے؟ عوام کا مطالبہ ہے کہ سیف سٹی اتھارٹی اور ٹریفک پولیس فوری طور پر اس مسئلے کو حل کرے اور ملتان کی سڑکوں سے بغیر نمبر پلیٹ کے رکشوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرے۔ ورنہ یہ صورت حال نہ صرف عوام کی جان ومال کے لیے خطرہ بنی رہے گی بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے لیے بھے آسان ہتھیار ثابت ہوگی۔ملتان کے شہری انتظامیہ سے اُمید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے دعوؤں پر عمل کرتے ہوئے سیف سٹی کیمروں کی آنکھیں کھولے اور بغیر نمبر پلیٹ کے رکشوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کرے، ورنہ عوام کا اعتماد نہ صرف پولیس بلکہ پورے نظام سے اُٹھ جائے گا۔ جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، ہر شہری کی جان اور مال پر کھلا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں