وفاقی آئینی عدالت کا سپر ٹیکس کیس میں بڑا فیصلہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار-وفاقی آئینی عدالت کا سپر ٹیکس کیس میں بڑا فیصلہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار-شہباز شریف کا بڑا اعلان: کم لاگت گھروں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح قرار-شہباز شریف کا بڑا اعلان: کم لاگت گھروں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح قرار-آبنائے ہرمز پر ایرانی صدر کا سخت مؤقف، امریکا اور اسرائیل کو واضح وارننگ-آبنائے ہرمز پر ایرانی صدر کا سخت مؤقف، امریکا اور اسرائیل کو واضح وارننگ-اسلام آباد ہائی کورٹ ججز تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، اہم درخواست دائر-اسلام آباد ہائی کورٹ ججز تبادلوں کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا، اہم درخواست دائر-اپنا گھر اسکیم کا اجرا، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان: آئندہ بجٹ میں عوام کو مزید سہولتیں دینے کا وعدہ-اپنا گھر اسکیم کا اجرا، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان: آئندہ بجٹ میں عوام کو مزید سہولتیں دینے کا وعدہ

تازہ ترین

وفاقی آئینی عدالت کا سپر ٹیکس کیس میں بڑا فیصلہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
293 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کے نفاذ کو آئینی قرار دیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپر ٹیکس کو انکم ٹیکس سے الگ اور ایک علیحدہ ٹیکس کے طور پر تسلیم کیا جائے گا، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا سیکشن 4C کے خلاف فیصلہ دائرہ اختیار سے تجاوز تھا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ سیکشن 4C کے تحت سپر ٹیکس کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے سالوں پر ہوگا۔
فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ کو انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دینا ہائی کورٹ کے اختیار سے باہر تھا۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس سے مختلف ہے اور اس کا متبادل نہیں۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیکشن 4C کا اطلاق ان تمام آمدنیوں پر ہوگا جو الگ ٹیکس نظام کے تحت آتی ہیں، جبکہ سرمایہ جاتی منافع پر بھی اسی قانون کے تحت سپر ٹیکس لاگو ہوگا۔
پیٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر سپر ٹیکس کا اطلاق معاہدوں اور قانونی حدود کے مطابق ہوگا۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ فلاحی اور پنشن فنڈز کو استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے تصدیقی سرٹیفکیٹس لازمی کرانے ہوں گے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون سازی کے ذریعے ماضی سے ٹیکس عائد کرنا قانونی طور پر درست ہے، اور مختلف شعبوں پر مختلف شرح سے سپر ٹیکس لگانا امتیازی سلوک نہیں بلکہ قانون ساز اداروں کا اختیار ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ جس آمدن پر قانون کے تحت ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، اس پر سپر ٹیکس بھی عائد نہیں ہوگا۔
جائیداد، شیئرز کی فروخت، وراثت، مخصوص مدت کے بعد حاصل آمدن اور زرعی زمین سے حاصل آمدن پر بھی سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں