ملتان(قوم ریسرچ سیل) سی سی آر آئی ملتان کی مرکزیت سازش کے تحت کمزور کرنے کے باعث کپاس بحران سنگین صورت اختیار کرنے لگا۔ایک وقت تھا جب سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کپاس کی تحقیق، رہنمائی اور پالیسی سازی کا مرکزی ادارہ سمجھا جاتا تھا۔ یہاں ہونے والے اجلاس محض رسمی کارروائیاں نہیں بلکہ ملکی کپاس کی سمت متعین کرنے والے فیصلے ہوتے تھے۔ انہی فیصلوں کی بدولت پنجاب، خصوصاً جنوبی پنجاب کپاس کی شاندار پیداوار کا گہوارہ بنا رہا ۔یہاں تک کہ ضلع وہاڑی کی پیداوار پورے سندھ کے برابر سمجھی جاتی تھی۔سی سی آر آئی ملتان میں کپاس کے سیزن کے دوران ہر پندرہ روز بعد منعقد ہونے والے کاٹن کراپ مینجمنٹ گروپ کے اجلاس کسانوں، سائنسدانوں اور پالیسی سازوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتے تھے۔ یہی وہ فورم تھا جہاں فصل کی صورتحال، کیڑوں کے حملے، آبپاشی کے مسائل اور جدید زرعی طریقوں پر بروقت فیصلے کیے جاتے تھے۔ اس گروپ کا جنرل سیکرٹری ڈائریکٹر سی سی آر آئی ملتان ہوتا تھاجو ادارے کی مرکزیت کی علامت تھا۔اسی طرح سیزن سے قبل ہونے والے کپاس کی پیداوار کے منصوبہ بندی اجلاس بھی اس نظام کا اہم حصہ تھےجو بعد ازاں بند کر دیئے گئے۔ اس کے نتیجے میں پالیسی سازی اور فیلڈ ریسرچ کے درمیان موجود رابطہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتا گیا۔کہانی کا اصل رخ اس وقت تبدیل ہوا جب تحقیقاتی سرگرمیوں اور اہم پالیسی فورمز کا مرکز سی سی آر آئی ملتان بتدریج سازش کے تحت پیچھے دھکیل دیا گیا۔ کپاس کے پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کے قومی ورائٹل ٹرائل جیسے بنیادی اور سٹرٹیجک پروگرام بھی پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے دائرہ اختیار سے نکال لیے گئےجس کے نتیجے میں نئی اقسام کی جانچ، منظوری اور کسان تک بروقت ترسیل کا پورا نظام غیر مؤثر ہو کر رہ گیا۔ادھر ادارے کے فنڈز محدود کیے گئے، تحقیقاتی منصوبے سکڑتے گئے اور وہ شراکت دار جو کبھی اس نظام کے ستون تھےانہیں آہستہ آہستہ بدظن کر دیا گیا۔ اسی دوران صوبائی اور وفاقی سطح پر بااثر عناصر کی جانب سے مسلسل پراپیگنڈے نے ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔یہی وہ مرحلہ تھا جب ایک مستحکم قومی تحقیقاتی مرکز آہستہ آہستہ اپنی مرکزیت کھوتا چلا گیا۔ اس کی راہداریاں ویران ہونے لگیں، لیبارٹریوں کی رونق مدھم پڑ گئی اور وہ ادارہ جو کبھی کپاس کی سمت متعین کرتا تھا، خاموشی کی لپیٹ میں آتا چلا گیا۔سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے بڑے شراکت دار آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن(اپٹما) کو بھی بدظن کر دیا گیا جس کے نتیجے میں تین سال تک کاٹن سیس کی ادائیگی محدود رہی اور ادارہ مالی بحران میں مزید گرتا چلا گیا۔اس مالی و انتظامی دباؤ کا سب سے زیادہ اثر ان اعلیٰ تعلیم یافتہ پی ایچ ڈی زرعی سائنسدانوں پر پڑا جو کبھی ملک کی زرعی معیشت کے معمار سمجھے جاتے تھے۔ وہ اپنی تنخواہوں اور پنشنز کے صرف 30 سے 40 فیصد پر آ گئے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے لگے، تحقیق کا عمل رک گیا اور بقا کی جدوجہد شروع ہو گئی۔تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ یہی سائنسدان، جو لیبارٹریوں میں قوم کے لیے حل تلاش کرتے تھے، سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کئی ماہ تک جاری رہنے والے دھرنوں نے نہ صرف ادارے کی کمزوری کو ظاہر کیا بلکہ یہ حقیقت بھی آشکار کی کہ تحقیق کا پورا ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ وہی عناصرجنہیں کبھی اسی ادارے نے تربیت دی، پہچان دی اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیےوہی بعد میں اس کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ اپنی الگ شناخت اور اثرورسوخ کے تعاقب میں انہوں نے ادارے کو’’سفید ہاتھی‘‘قرار دینے کی مہم کا حصہ بنایا۔اس پورے عمل کے نتیجے میں نہ صرف ایک اہم قومی ادارہ کمزور ہوا بلکہ کپاس جیسی سٹرٹیجک فصل بھی مسلسل زوال کا شکار ہو گئی۔ آج جب ملک اربوں ڈالر کی کپاس درآمد کرنے پر مجبور ہے تو یہ سوال شدت سے موجود ہے کہ کیا یہ سب محض انتظامی کمزوری تھی یا ایک طویل، منظم اور خاموش زوال کی کہانی؟آخر میں ارب اختیار سے یہی استدعا ہے کہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کا جو محدود مگر قیمتی نظام باقی رہ گیا ہےاسے مزید بکھرنے سے روکا جائے۔ اس کے استحکام، بحالی اور مستقل بنیادوں پر مضبوطی کے لیے ٹھوس اور دیرپا پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کپاس کے قومی تحقیقاتی ڈھانچے کو دوبارہ فعال کیا جا سکے اور کسان و تحقیق کے درمیان ٹوٹا ہوا رشتہ بحال ہو سکے۔
Multan, Central Cotton Research Institute Multan, Pakistan Central Cotton Committee, All Pakistan Textile Mills Association, South Punjab, cotton crisis Pakistan,







