آبنائے ہرمز پر قبضے کی جنگ، ٹرمپ کا کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم

تہران،واشنگٹن(نیوزایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اورامریکاکی آبنائےہرمزپرقبضےکی جنگ جاری ہے۔ایران کا بڑا اقدام، دو جہازتحویل میں لےلئے،امریکی افواج نے بحر ہند میں ایرانی تیل لے جانے والے ایک اور ٹینکر پر قبضہ کرلیا ۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم دیدیا۔انہوںنےکہاکہ چھوٹی ہو یا بڑی ہر کشتی کو نشانہ بنایا جائے،کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی کو تباہ کر دیا جائے۔امریکی سینٹ کام نے کہاکہ ناکہ بندی سے 31 جہازوں کو ری ڈائریکٹ کیا گیا، زیادہ تر آئل ٹینکرز شامل ہیں۔ ایرانی صدرمسعودپزشکیان نےکہاکہ حقیقی مذاکرات میں بنیادی رکاوٹیں وعدوں کی خلاف ورزی، ناکہ بندی اور دھمکیاں ہیں۔ ایرانی عہدیدارنے امریکی اخبارسے گفتگوکرتےہوئےانکشاف کیاہےکہ سپریم لیڈر شدید زخمی مگر ہوش میں ہیں، قاصدوں کے ذریعے پیغام رسانی جاری ہے۔ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں پر قبضہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دی ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی بحریہ کے مطابق ان جہازوں کو اس لیے قبضے میں لیا گیا کیونکہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے حفاظتی انتظامات کو خطرے میں ڈالا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کو تحویل میں لینے کے بعد ایرانی ساحل کی جانب منتقل کر دیا گیا ہے۔ادھرامریکی محکمہ جنگ نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایک ایسے جہاز پر کارروائی کی ہے جو ایران کو معاونت فراہم کر رہا تھا۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امریکی محکمہ جنگ نے کہا کہ گزشتہ رات امریکی افواج نے بحر ہند میں پابندیوں کا شکار بغیر رجسٹری کے جہاز M/T Majestic X کے خلاف کارروائی جو ایرانی تیل لے جا رہا تھا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ہم غیر قانونی نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور ایران کو مادی معاونت فراہم کرنے والے جہازوں کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر کارروائیاں جاری رکھیں گے‘۔ادھرامریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بتایا ہے کہ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں 31 جہازوں کو ری ڈائریکٹ کر دیا ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے نتیجے میں 31 جہازوں کو ری ڈائریکٹ کیا گیا ہے کچھ جہازوں کو بندر گاہوں کی جانب واپس بھیجا گیا ہے یا ان کو اردگرد چکر لگانے پر مجبور کیا گیا ہے۔سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ جن جہازوں کو ری ڈائریکٹ کیا گیا ہے ان میں زیادہ تر آئل ٹینکرز شامل ہیں، سینٹ کام کے مطابق تمام جہازوں نے امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل کیا۔سینٹ کام کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرنے کے آپریشن میں 10,000 سے زائد امریکی فوجی، 17 جنگی جہاز اور 100 سے زیادہ طیارے شامل ہیں۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں کارروائیاں تین گنا بڑھانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ چھوٹی ہو یا بڑی ہر کشتی کو نشانہ بنایا جائے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ہر کشتی کو تباہ کر دیا جائے، کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ دشمن کے تمام 159 بحری جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں، امریکی مائن سوئپرز آبنائے ہرمز کو صاف کرنے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے کسی عجلت میں نہیں اور وہ ایک بہترین معاہدہ چاہتے ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا، انہوں نے اس پیش رفت کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر جمعہ کو ہو سکتا ہے۔دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہےکہ ایران نے ہمیشہ مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اب بھی کرتا ہے۔ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ حقیقی مذاکرات میں بنیادی رکاوٹیں وعدوں کی خلاف ورزی، ناکہ بندی اور دھمکیاں ہیں۔ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دنیا آپ کی مسلسل منافقانہ بیان بازی، دعوؤں اور عمل کے درمیان تضادات کو دیکھ رہی ہے جب کہ ایران نے ہمیشہ مکالمے اور معاہدے کا خیرمقدم کیا اور اب بھی کرتا ہے۔ادھرایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد فیس سے حاصل ہونے والی پہلی آمدن مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی ہے۔گزشتہ ماہ ایرانی پارلیمنٹ کی سکیورٹی کمیٹی نے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ادھرامریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر ذہنی طور پر متحرک اور باخبر ہیں لیکن ملک کے اہم فیصلے عملاً پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں کے ایک گروپ کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای فضائی حملے میں زخمی ہوگئے تھے اور تاحال طبی ٹیم کی نگرانی میں ہیں۔ایران کے اس سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہیں مگر ہوش میں ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای تک پیغامات ہاتھ سے لکھ کر قاصدوں کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں اور وہ تحریری طور پر ہی جواب دیتے ہیں۔ایرانی سینئر عہدیدار نے کہا کہ اسرائیلی یا امریکی نگرانی سے بچنے کے لیے اعلیٰ حکام سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے قریب نہیں جا رہے ہیں اور پیغام رسانی کے لیے غیر روایتی مگر محفوظ طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای عوامی منظر نامے سے غائب رہنے کے باوجود تحریری نوٹس کے ذریعے بیرونی دنیا کی صورتحال سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اور اہم امور پر اپنی منظوری دیتے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں ہونے والے اس حملے میں زخمی ہوگئے تھے جس میں ان کے والد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے عسکری قیادت کے ہمراہ شہید ہوگئے تھے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں