ٹرمپ کا ایران سے مستقل معاہدے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں وہ عجلت کے قائل نہیں بلکہ ایسا پائیدار اور طویل المدتی سمجھوتہ چاہتے ہیں جو مستقل بنیادوں پر قائم رہ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو Strait of Hormuz کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس اہم سمندری گزرگاہ پر مؤثر کنٹرول رکھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے بحال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کو بہتر معاہدے کا موقع دیا جا رہا ہے اور جیسے ہی ڈیل مکمل ہوگی آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ایران کی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور اس کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران اس وقت اندرونی سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے تاہم امریکا مذاکرات کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں امریکا نے اپنے 75 فیصد اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی کچھ عسکری صلاحیتیں بحال کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن امریکی فوج انہیں تیزی سے ناکارہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ ایک دیرپا امن معاہدہ کیا جائے، اسی لیے کسی بھی فیصلے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔
آخر میں انہوں نے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ مختصر مدت میں پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم مستقبل میں یہ قیمتیں دوبارہ کم ہونے کی توقع ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں