اسلام آباد،تہران، واشنگٹن (بیورو رپورٹ، نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں قیام امن اورجنگ ختم کرنے کیلئے پاکستان کی امریکا اور ایران کوایک میزپربٹھانےکی کوششیں حتمی مراحل میں داخل ہوگئیں۔پاکستان نے جنگ بندی کو آگے بڑھانےکی اپیل کردی۔ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ امریکی افواج بے تاب، گن لوڈڈ ہیں، حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی۔معاملہ بڑی ڈیل کیساتھ ختم ہو جائے گا،چین امریکا اور اسرائیل کیخلاف جنگ کے دوران ایران کی مدد کر رہا ہے۔ایرانی صدرمسعودپزشکیان نےکہاہےکہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔سربراہ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹرنےکہاہےکہ کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے تیارہیں۔امریکی خبرایجنسی کےمطابق ایران اورامریکانے مذاکرات میں واپسی کے اشارے دیئےہیں۔وفاقی وزیرعطاتارڑنےکہاہےکہ پاکستان ،ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری و مذاکرات کے راستے پر عمل پیراہے۔تفصیل کےمطابق امریکی خبررساں ایجنسی نے دو علاقائی عہدیداروں کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اورامریکا نے پاکستان میں مذاکرات میں واپسی کے اشارے دیئے ہیں۔خبررساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کی قیادت میں ثالثوں کو تصدیق ملی ہے کہ اعلیٰ مذاکرات کار اسلام آباد پہنچیں گے۔دوسری جانب پاکستان کی جانب سے اپیل کی گئی ہے کہ جنگ بندی کو آگے بڑھایا جائے ۔ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں چاہتا، ایران کا معاملہ بڑی ڈیل کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔انہوںنےکہاکہ امریکی افواج بے تاب ہیں، گن لوڈڈ ہیں، حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے معاہدہ نہ ہونے پر بمباری کی دھمکی دے دی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاملات کو بہت کامیابی سے سنبھال رہے ہیں، ہم مذاکرات میں مضبوط پوزیشن میں ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں شبہ ہے چین امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے دوران ایران کی مدد کر رہا ہے تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اس معلومات کی درستگی کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے کل ایک جہاز پکڑا جس میں کچھ ایسی چیزیں تھیں جو اچھی نہیں تھیں، شاید چین کا تحفہ تھیں۔ میں نہیں جانتا، لیکن مجھے حیرت ہوئی، کیونکہ میرے صدر شی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور میرا خیال تھا کہ ہمارے درمیان ایک اتفاق موجود ہے لیکن جنگ میں ایسا ہوتا ہے، ہے نا؟۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی ناکا بندی کامیاب رہی ہے، ہمارے پاس اس معاملے پر مزید وقت نہیں ہے، امریکا ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کرنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاہدہ کر لے تو وہ بہت مضبوط پوزیشن میں آ سکتا ہے، ایران کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی چارہ نہیں، ہم نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور ان کی قیادت کو ختم کر دیا ہے۔اس کے علاوہ امریکی صدر نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ کرنسی تبادلے پر غور جاری ہے، اگر میں متحدہ عرب امارت کی مدد کر سکا تو ضرور کروں گا۔دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کے امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے۔اپنے ایک بیان میںانہوں نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے غیر تعمیری اور متضاد اشارے تلخ پیغام دیتے ہیں، بامعنی مذاکرات کی بنیاد معاہدے پورے کرنے پر ہوتی ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے امریکا پر اعتماد نہ ہونے کی وجوہات تاریخی بد اعتمادی ہے، امریکا ایران سےسرینڈرچاہتا ہے جب کہ ایرانی قوم طاقت کے آگے سر نہیں جھکاتی۔ادھرایرانی فوج کی مشترکہ کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے سربراہ جنرل عبداللّہی نے کہا ہےکہ ایران مخالفین کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیارہے۔ایک بیان میں جنرل عبداللّہی نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مضبوط ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زمینی صورتحال کے بارے میں غلط بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے۔ ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ حملوں کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ایرانی جہاز کے خلاف اقدام کا یقینی طور پر جواب دیا جائے گا۔ادھروفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کی تصدیق تاحال موصول نہیں ہوئی۔وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان بطور ثالث ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارت کاری و مذاکرات کے راستے پر عمل پیرا ہے۔دریں اثناامریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے دوسرے ممکنہ دور کی تیاریوں کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔راولپنڈی اور اسلام آباد کی مرکزی شاہراہوں پر پولیس، رینجرز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں، جگہ جگہ ناکوں پر سخت چیکنگ کی جا رہی ہے اور ریڈ زون کی جانب جانے والے راستے مکمل بند کر دیے گئے ہیں۔کورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے جبکہ سری نگر ہائی وے پر بھی مختلف اوقات میں ٹریفک روکی جاسکتی ہے۔







