فاٹا کے نام پر امپورٹڈ سامان کی سمگلنگ، نیٹ ورک ایجنٹوں اور کمپنیوں کے نام سامنے آگئے

ملتان (وقائع نگار)فاٹا کے نام پر مبینہ طور پر سمگل شدہ سامان منگوانے کے لیے فرضی فیکٹریوں اور ایجنٹوں کے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہےجس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بعض ایجنٹوں نے مبینہ طور پر بھاری رشوت دے کر فاٹا کے نام پر اپنے لائسنس بنوائے سہولیات حاصل کیں اور اسی آڑ میں مختلف اشیا درآمد کی جا رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ سامان بعد ازاں پنجاب کے مختلف اضلاع میں فروخت کیا جا رہا ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ نیٹ ورک میں شامل ایجنٹوں میں شیر محمد، ا سرار احمد، محمد افضل، اجمل خان، انور آفریدی، توصیف جان، یاسر علی، تنویر احمد اور فرحان احمد سمیت دیگر افراد کے نام سامنے آئے ہیں جو مبینہ طور پر اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں۔اسی طرح جن کمپنیوں اور فیکٹریوں کے نام پر سامان منگوایا جا رہا ہے، ان میں ایڈوانس ٹیکسٹائل اینڈ بلینکٹ انڈسٹری، پرعزم انڈسٹری، فیبرک امتیاز ٹیکسٹائل، برادر والکن ٹیکسٹائل، پاک ٹیکسٹائل، چائنہ ٹیکسٹائل، نیو مصطفیٰ، ٹاپ ٹی کمپنی، ایم ایس اے کے فوڈ کمپنی، ڈریم ٹیکسٹائل، خسرو فوڈ کمپنی، لیدر ٹی کمپنی، ایمپائر ٹی اینڈ فوڈ کمپنی، عزیز فوڈ اینڈ پیکجز، ال سعید فوڈ، آفریدی ٹی اینڈ فوڈ کمپنی، ذبیح اللہ فوڈ انڈسٹری، ایس ثاقب عاصم ٹریڈرز، ایم ایس تھری اسٹار کارپوریشن، خیبر ٹیکسٹائل لمیٹڈ اور ہائی ٹیک الیکٹرانکس سمیت متعدد نام شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ان میں سے بیشتر فیکٹریاں صرف کاغذوں میں موجود ہیں عملی طور پر غیر فعال ہیں۔ نہ ان کے پاس فاٹا میں گودام موجود ہیں اور نہ ہی یہ پیداواری سرگرمی میں ملوث ہیں، اس کے باوجود ان کے نام پر سامان منگوا کر مارکیٹ میں سپلائی کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو اس مبینہ سکینڈل کی تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ حکام کے مطابق اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ملوث افراد اور کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ قانونی کاروبار کرنے والوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتی ہیں، لہٰذا شفاف تحقیقات اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔جب اس سلسلے میں کلکٹر کسٹم عائشہ اشوانی سے رابطہ کیا تو انھوں نے اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں