فاٹا کے نام پر درآمد شدہ سامان کی پنجاب میں غیر قانونی ترسیل، اربوں کی ٹیکس چوری

ملتان (وقائع نگار) پشاور ڈرائی پورٹ پر مبینہ سمگلنگ کا بڑا اسکینڈل فاٹا کے نام پر درآمد، پنجاب میں ترسیل، ٹیکس کی مد میں حکومت کو سالانہ 2 کھرب سے زائد کا نقصان ،پشاور ڈرائی پورٹ پر مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر سمگلنگ کا نیٹ ورک فعال ہے۔ حکومت نے فاٹا کو ٹیکس فری قرار دیا ہوا ہے جس وجہ سے فاٹا کے نام پر درآمد ہونے والا سامان روزانہ بڑی تعداد میں کلیئر کیا جا رہا ہے، جو بعد میں پنجاب کے مختلف اضلاع سمیت ملک کے دوسرے حصوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ کلکٹر کسٹم عائشہ اشوانی کی سرپرستی میں جاری ہے جس کے نتیجے میں حکومتی خزانے کو سالانہ دو کھرب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پشاور ڈرائی پورٹ پر روزانہ 30 سے 40 کنٹینرز فاٹا کے نام پر کلیئر کیے جا رہے ہیں۔ یہ کنٹینر فاٹا کے نام پر منگوائے جاتے ہیں جہاں ٹیکس چھوٹ اور رعایتیں حاصل ہوتی ہیں، مگر ان میں سے بڑی تعداد براہ راست پنجاب کے مختلف اضلاع اور دیگر علاقوں کی طرف روانہ ہو جاتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ کنٹینرز پشاور چیک پوسٹ سے باآسانی گزر کر ملک کے طول و عرض میں پہنچ رہے ہیں اور کوئی سخت چیکنگ نہیں ہو رہی۔سب سے زیادہ سمگل کی جانے والی اشیاء میں چائے کی پتی، کپڑا، الیکٹرانکس کا سامان، لوہے کی چادریں اور دیگر مہنگی اشیاء شامل ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ سامان فیکٹریوں اور کارخانوں کے نام پر منگوایا جا رہا ہے جن کی تصدیق اگر کی جائے تو بڑی تعداد میں جعلی یا غیر فعال یونٹس سامنے آ سکتے ہیں۔ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر انفورسمنٹ ٹیم فاٹا کے نام پر درآمد ہونے والے سامان کا جامع آڈٹ کرائے تو ٹیکس چوری کی مد میں سالانہ کھربوں روپے کی کرپشن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹریوں اور کارخانوں کی تصدیق ضروری ہے جن کے نام پر یہ سامان منگوایا جا رہا ہے۔ بغیر آڈٹ کے یہ سلسلہ جاری رہا تو حکومت کو ماہانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا رہے گا۔یہ مبینہ سمگلنگ نہ صرف قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ مقامی صنعت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ فاٹا کے نام پر دی جانے والی رعایتیں اصل مقصد کے لیے نہیں بلکہ سمگلنگ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ پشاور سے لاہور آنے والے سمگل شدہ کروڑوں روپے کے سامان کو کسٹم لاہور انفورسمنٹ ٹیم کے سپرنٹنڈنٹ ارشد منیر نے پکڑا ہے گزشتہ تین ماہ کے دوران ارشد منیر نے 12 مرتبہ سامان پکڑ کر کیس بنائے ہیں متعلقہ محکمہ اور انفورسمنٹ ایجنسیوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کریں، تمام کنٹینرز کا آڈٹ کروائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ حکومتی خزانے کا مزید نقصان روکا جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں