اسلام آباد،واشنگٹن،تہران (بیورورپورٹ، نیوز ایجنسیاں)پاکستان امن کاپیامبر،کل پھرمذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار،وفودکی آمدشروع ہوگئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ’میرے نمائندے اسلام آباد جارہے ہیں، وہ کل شام مذاکرات کے لیے وہاں ہوں موجود ہوں گے‘۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہاکہ ایران نے کل آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیاجوسیز فائر کی خلاف ورزی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ اخبار کو بتایا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر دستخط کے لیے خود بھی اسلام آباد جا سکتے ہیں۔نیو یارک پوسٹ کی طرف سے اپنی پاکستان آمد کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ’شاید میں بعد میں کسی اور تاریخ کو چلا جاؤں۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کل کیا ہوتا ہے۔‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمزبند کرنےکا اعلان کیا جو عجیب بات ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے ہرمز پہلے ہی بند ہے۔اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ایران کو ایک اچھے معاہدے کی پیشکش کررہے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ ایران یہ معاہدہ کرلے گا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران میں ہر پاور پلانٹ اور ہر پُل کو تباہ کردے گا‘۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز بند کرکے ایران ہماری مدد کررہاہے لیکن اسے اس کا علم نہیں، آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے ایران کا روزانہ 500 ملین ڈالرکانقصان ہورہا ہے جبکہ امریکا کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ٹرمپ نے کہا کہ اب مزید نرمی نہیں دکھائی جائےگی، اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو جوکچھ کرنا پڑا وہ کرنا میرے لیے اعزاز ہوگا، وہ کام پچھلے47 سالوں میں دوسرے صدور کو ایران کے ساتھ کرنا چاہیےتھا، اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کی کلنگ مشین کو ختم کیا جائے۔امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ صرف اپنے دفاع کے قانونی حق کا استعمال کر رہا ہے۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کا بنیادی مؤقف خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے، اور ایران کسی بھی صورت جنگ کو مزید بڑھانا نہیں چاہتا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران نے نہ کوئی جنگ شروع کی ہے اور نہ ہی کسی تنازع کا آغاز کیا، بلکہ موجودہ صورتحال میں وہ صرف اپنے دفاع کے حق کو استعمال کر رہا ہے۔مسعود پزشکیان نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایرانی عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کریں یا یہ فیصلہ کریں کہ ایران اپنے جوہری حقوق سے فائدہ اٹھا سکتا ہے یا نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مخالفین اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق دشمن نے جنگ کے دوران بنیادی ڈھانچے، سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کی تہذیب کو نقصان پہنچانے اور ملک کو پتھر کے دور میں واپس دھکیلنے جیسے بیانات دشمن کے اصل عزائم کو ظاہر کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات کےلیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان جائیں گے۔







