خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک امید کی کرن بھی دکھائی دے رہی ہے اور وہ ہے پاکستان کی فعال سفارتی کوششیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ، جنگ بندی کی نازک صورتحال اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی کشیدگی نے دنیا کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، مگر ایسے میں پاکستان کا ثالثی کردار نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی۔اطلاعات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان پیدا ہو چکا ہے اور اسلام آباد ایک بار پھر ممکنہ میزبان کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی تاہم اس نوعیت کی خبریں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ عالمی طاقتیں بھی پاکستان کی سفارتی اہمیت کو تسلیم کر رہی ہیں۔پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ بندی کمزور ہو چکی ہے اور کسی بھی لمحے صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔ یہی وہ نازک لمحہ ہے جہاں سفارت کاری جنگ کو روک سکتی ہے۔ چین کا ردعمل بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی انتہائی کمزور ہے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جو اس نازک توازن کو بگاڑ دے۔ مزید برآں چین نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے پر زور دیا بلکہ پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
دوسری جانب امریکا بھی بظاہر سفارتی حل کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے خاتمے سے قبل دوبارہ مذاکرات چاہتے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی کہا کہ دوسری جانب سے رابطہ کیا گیا ہے اور معاہدے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم امریکا کے مطالبات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت شرائط، اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایران نے جہاں پانچ سال کیلئے یورینیم افزودگی معطل کرنے کی پیشکش کی ہے، وہیں امریکا بیس سال کی شرط پر اڑا ہوا ہے، جو مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ایران کا مؤقف بھی کسی حد تک سخت ہوتا جا رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ان کی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو پورا خطہ غیر محفوظ ہو جائے گا۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر سفارتی عمل ناکام ہوا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ایسے میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو نہ صرف خطے کی حساسیت کو سمجھتا ہے بلکہ مسلم دنیا اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی قیادت نے جس سنجیدگی سے اس معاملے کو لیا ہے اور مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال ثالث بن کر سامنے آ رہا ہے۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر یہ کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور امن و استحکام سب متاثر ہوں گے۔ چین کا یہ انتباہ کہ دنیا جنگل کے قانون کی طرف لوٹ سکتی ہے، دراصل ایک بڑی وارننگ ہے کہ اگر بین الاقوامی قوانین اور سفارت کاری کو نظرانداز کیا گیا تو نتائج تباہ کن ہوں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا اپنی طاقت کے زعم سے باہر نکلے، ایران لچک کا مظاہرہ کرے اور عالمی طاقتیں مل کر اس بحران کا پرامن حل تلاش کریں۔ پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات کا انعقاد اس سمت میں ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، بشرطیکہ تمام فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔اگر دنیا نے اس موقع کو ضائع کیا تو یہ کشیدگی کسی بڑے تصادم میں بدل سکتی ہے۔ مگر اگر دانشمندی سے کام لیا گیا تو یہی بحران امن کی نئی راہیں بھی کھول سکتا ہے۔ پاکستان آج اسی امید کا نام ہے۔







