کوٹ ادو (نامہ نگار) کوٹ ادو صوبائی گورنمنٹ کی پانچ ہزار کنال اراضی، پٹواری بادشاہ کی نوازشات، فرضی ناموں پر اپنوں کو زمینیں الاٹ، پانچ ہزار کنال اراضی پر قابضین میں سے صرف تیرہ قابضین کو نوٹس جاری، تیرہ قابضین کے پاس تقریباً سو کنال زمین قبضے میں ہے، چار ہزار نو سو کنال گورنمنٹ کی اراضی پر ناجائز قابضین قابض ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو پٹواری رپورٹ پر مطمئن، بروقت کارروائی نہ کی گئی تو قابضین کاشت گندم کی فصل گھر لے جا سکتے ہیں، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے۔اس سلسلے میں تفصیل کے مطابق کوٹ ادو موضع رکھ پتل میں صوبائی گورنمنٹ کی تقریباً پانچ ہزار کنال اراضی موجود ہے، جس میں سے چھ سو کنال اراضی صوبائی گورنمنٹ نے زرعی گریجویٹ کے لیے مختص کی تھی۔ پنجاب گورنمنٹ کی یہ سکیم بے روزگار زرعی گریجویٹ کے لیے تھی مگر پٹواری موضع نے زرعی گریجویٹ کے لیے مختص کی گئی اراضی اپنے من پسند زمینداروں کو الاٹ کر دی۔ کیسے کی، ریونیو ریکارڈ میں پنجاب گورنمنٹ کی کسی سکیم کا حوالہ موجود نہیں۔ پٹواری بادشاہ نے سرکاری اراضی سیاسی سفارشوں اور ذاتی تعلقات پر اس طرح بانٹی جیسے ریوڑیاں بانٹی جاتی ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر کی روایتی سستی اور پٹواری کی غلط رپورٹ سے ناجائز قابضین سرکاری اراضی سے کاشت فصل گندم اٹھا کر لے جائیں گے، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان کا اندیشہ ہے۔ سرکاری اراضی پر قابض بااثر زمیندار برسوں سے مبینہ طور پر زرعی زمین سے وصول آمدن کا ایک دھیلا بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرا رہے۔اسسٹنٹ کمشنر کوٹ ادو کو دی گئی ایک شہری کی درخواست میں نشاندہی بھی کی گئی اور درخواست میں یہ بھی باور کرایا گیا کہ مذکورہ ناجائز قابضین کو بذریعہ نوٹس روکا جائے کہ فصل گندم سرکاری اراضی سے نہ اٹھائیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پٹواری موضع ارشد ہنجرا نے تیرہ بندوں کو نوٹس جاری کیے ہیں، جبکہ موقع پر جا کر ناجائز قابضین کو فصل گندم نہ اٹھانے کے لیے روکنے کے بجائے ان ناجائز قابضین کو موقع فراہم کیا کہ وہ کاشتہ فصل کھیتوں سے اٹھا لیں۔برسوں سے سرکاری زمین پر قابض کاشتکار مبینہ طور پر زمین سے آمدن کا ایک دھیلا سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرا رہے اور ہر سال گندم اور چاول کی فصل گھر لے جاتے ہیں، جس سے ہر سال قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ کمشنر ڈیرہ غازی خان اور ڈپٹی کمشنر کوٹ ادو نوٹس لیں تو ناجائز قابضین سے برسوں سے نہ لیا گیا تاوان وصول ہو سکتا ہے اور ناجائز قابضین سے اراضی بھی واگزار کرائی جا سکتی ہے۔







