ملتان(انویسٹی گیشن سیل)ملک بھر کی عدالتوں اور اپیلیٹ ٹریبونلز میں ٹیکس سے متعلق مقدمات کا انبار لگ گیا ہے۔ 5 ہزار ارب سے زائد رقم کی عدالتی سطح پر التوا کا شکار ہونے کے باعث قومی خزانے کے ہزاروں ارب روپے ریکوری سے محروم ہیں۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق زیرِ التوا ٹیکس مقدمات کی مجموعی مالیت 5 ہزار 457 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ان کیسز میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے ٹیکس وصولی کے دعوؤں کے باوجود عدالتی پیچیدگیوں، اپیلوں کے طویل سلسلے اور قانونی موشگافیوں کے باعث خطیر رقم برسوں سے پھنسی ہوئی ہے۔ دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ اپیلیٹ ٹریبونلز میں زیرِ التواء کیسز کی مالیت 3330 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جو مجموعی رقم کا بڑا حصہ ہے۔عدالتی سطح پر جائزہ لیا جائے تو سپریم کورٹ میں 3277 مقدمات میں 169 ارب روپے، اسلام آباد ہائی کورٹ میں 1979 کیسز میں 482 ارب روپے جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ 7 ہزار 490 مقدمات میں 963 ارب روپے کے ٹیکس تنازعات زیرِ سماعت ہیں۔ اسی طرح سندھ ہائی کورٹ میں 2081 کیسز میں 480 ارب روپے، پشاور ہائی کورٹ میں 241 کیسز میں 27 ارب روپے اور بلوچستان ہائی کورٹ میں 37 مقدمات میں 6 ارب روپے مالیت کے کیسز التوا کا شکار ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق ٹیکس تنازعات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت دستیاب اپیلوں کا طویل اور پیچیدہ نظام ہےجس میں ابتدائی فیصلے کے خلاف کمشنر (اپیل)، پھر اپیلٹ ٹریبونل، ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ تک جانے کا مکمل قانونی راستہ موجود ہے۔ اس کثیر سطحی اپیلٹ نظام کے باعث ایک کیس کئی برس بلکہ دہائیوں تک زیرِ التوا رہ سکتا ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف بی آر کی تفتیشی اور پراسیکیوشن تیاری میں کمزوریاں، ریکارڈ کی عدم تکمیل، اور عدالتی تقاضوں کے مطابق شواہد پیش نہ کر پانا بھی کیسز کے طول پکڑنے کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ دوسری جانب ٹیکس دہندگان کی جانب سے قانونی موشگافیوں، حکمِ امتناع (Stay Orders) اور تاخیری حربوں کا استعمال بھی فیصلوں میں رکاوٹ بنتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق عدالتوں میں 11 ہزار 938 مقدمات میں تقریباً 1958 ارب روپے جبکہ اپیلیٹ ٹریبونلز میں 21 ہزار 700 کیسز میں 3330 ارب روپے سے زائد رقم التوا میں ہے، جو مجموعی طور پر قومی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے زیرِ التوا ٹیکس مقدمات کی جلد سماعت اور تصفیے کے لیے جامع حکمت عملی طلب کر لی ہے۔ ماہرین کے نزدیک اگر ٹیکس تنازعات کے حل کے لیے متبادل تنازعہ حل (ADR)، ڈیجیٹلائزیشن، اور خصوصی ٹیکس عدالتوں کے قیام جیسے اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رقم مزید بڑھتی جائے گی اور قومی خزانے پر دباؤ میں اضافہ ہوتا رہے گا۔







