بہاولپور ( نیوز رپوٹر) اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کےسال 2015-16کی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں غیر قانونی تقرریوں کے انکشاف سے متعلق 10آڈٹ پیرا ز (نمبر 4,5,7,9,11,14,22 ,23,25,27 )کی مزید چھان بین کرنے کےلئےسیکر ٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور کے لیٹر نمبر5-188/2016 S.O(Audit) مورخہ 4-5-2018 کی ہدایت پر یونیورسٹی آف سرگودھا کے خزانہ دار عبدالباسط جُسرا کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور غیر قانونی تقرریوں سے متعلق چھان بین کرنے کے بارے میں پروب آفیسر مقرر کیا۔ انہوں نے مکمل چھان بین کرتے ہوئےمورخہ یکم جون 2018 کو اپنی پروب رپورٹ میں یونیورسٹی کے 14 افسران و اساتذہ کی تقرریاں غیر قانونی قراردیں ۔ اس رپورٹ کی روشنی میں سیکر ٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، لاہور نے ارجنٹ نوعیت کا لیٹر نمبری 5-188/2016 S.O(Audit) مورخہ 26 مارچ 2019 وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو بعنوان DE-NOTIFICATION OF ILLEGAL APPOINTMENT / RECOVERY OF OVER PAYMENT OF SALARY ON ACCOUNT OF IRRRGULAR GRANT OF ADDITIONAL INCREMENTS/SALARY FIXATION IN VIOLATION OF PAY FIXATION RULES. جاری کیا۔ اور وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو ہدایت کی کہ اس لیٹر میں درج یونیورسٹی افسران و اساتذہ کی تقرریاں غیر قانونی ہیں ۔انہیں فوری طور پر برطرف کر کے غیر قانونی اضافی انکریمنٹس سےحاصل کرنے ولی رقوم کی وصولی کرکے رپورٹ کی جائےمگر تاحال کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔تفصیل کے مطابق اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہےکہ ذریت الز ہرہ کی بطور وارڈن سکیل17 اور بطور چیف وارڈن سکیل 18کی تقرری سراسر غیر قانونی تھی۔ کیونکہ ان کی دونوں تقرریاں نہ صرف بغیر اشتہار کے عمل آئی تھیں بلکہ ان اسامیوں کی تقرری کے قواعد و ضوابط و شرائط آج تک چانسلر سے منظور شدہ نہ ہیں ۔ بلکہ ان کو سکیل 18 کی 19 اضافی انکریمنٹس بھی غیر قانونی دی گئیں تھی۔جسے ان سے وصول کرکے یونیورسٹی خزانہ میں جمع کروائی جائے۔ علاوہ ازیں ان کو چیف وارڈن کے عہدہ کے ساتھ ساتھ پہلے پرنسپل ٹرانسپورٹ آفیسرکی سیٹ پر نوازا گیا۔ پھر تھوڑے دنوں بعد ڈپٹی کنٹرولر امتحانات کی ذمہ داریاں سونپ دیںاور ساتھ ہی یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات کا چارج بھی دے دیا گیا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ مسماۃ ذریت الز ہرہ کی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں تمام تر پوسٹنگ غیر قانونی تھیں۔اسی طرح فرخندہ تحسین جسے پہلے اسسٹنٹ رجسٹرار(جرنل) بغیر اشتہار کے لگایا ۔پھر ان کو سکیل 18 میں منیجر اسٹیٹ کیئر اینڈ اسپیس مینجمنٹ لگا کر 6 اضافی انکریمنٹس سے نوازا۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی کی منیجر اسٹیٹ کیئر اینڈ اسپیس منیجمنٹ کی اسامی آج تک چانسلر سے منظور نہ ہوئی ہے۔ مس طاہرہ اختر کی براہ راست18 ویں سکیل میں کیریئر ڈیویلپمنٹ آفیسر کی تقرری جولائ2007میں عمل میں لائی گئی تھی ۔ انکو بھی 20 اضافی انکریمنٹس سے نوازا۔ کیریئر ڈیویلپمنٹ آفیسر کی تقرری کے قواعد و ضوابط چانسلر صاحب سے منظور شدہ نہ ہیں۔ ڈاکٹر تنویر حسین ترابی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جوائن کرنے سے قبل پیر مہر علی شاہ زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں بطور ڈپٹی رجسٹرار / ڈپٹی ڈائریکٹر کام کر رہے تھے۔ چانسلر کی اجازت کے بغیر اورسابق وائس چانسلر مختار احمد بھارہ نےمبینہ بھاری رشوت کے باعث اور اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ڈیپوٹیشن پر جوائن کروا دیا اور انہیں ابتدا میں چاراضافی انکریمنٹس سے بھی نوازا۔ اس سلسلے میں سے اس غیر قانونی ڈیپوٹیشن جوائننگ پر چانسلر نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورسے بذریعہ لیٹر نمبری GS(S.I) 7-1/2009 (Prov.)31 مورخہ 9 ستمبر 2010 غیر قانونی تقرری پر وضاحت طلب کی ۔ جسے دبا دیا گیا یا تسلی بخش جواب نہ دیا ۔ پھر ان کو سکیل 19 میں CIDS کا 2010 میں جوائنٹ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔2011میں یونیورسٹی سنڈیکیٹ سے منطوری لیئے بغیرچار مزید اضافی انکریمنٹس دے کر ایسوسی ایٹ پروفیسر(فارسٹری) تعینات کر دیا۔آج کل موصوف سکیل21 میں پروفیسر اور ڈین فیکٹی ایگریکلچرل تعینات ہیں۔ڈاکٹر محمد عثمان چیمہ کو 2006 میں یونیورسٹی اشتہار کے ذریعے سینئر میڈیکل آفیسر سکیل 17 کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔بعد میں یہ ہائر اتھارٹی کی منظوری کے بغیر سکیل 18 کی کردی گئی اور انہیں سکیل 18 دے دیا گیا۔ ان کوبھی20 ایڈوانس انکریمنٹس دے رکھی ہیں۔ ملک محمد سلیم ایگزیکٹو انجینئر(سول) سکیل 18، افضال احمد ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی سکیل 19، کامران مشتاق ملک چیف سکیورٹی آفیسر کو سکیل 20 کی تقرریاں کیں جو غیر قانونی ہیں کیونکہ ان اسامیوں کی بھرتی کے قواعد چانسلر سے منظور نہ تھے اور60 سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود گورنمنٹ پنجاب کی پالیسی و قواعد کے خلاف انہیں اقربا پروری کرتے ہوئے ملازمتوں سے نوازا گیا۔مسٹر محمد لطیف 2009 میں فارم منیجر کم لینڈآفیسر سکیل 17 میں تعینات ہوئے۔سال 2012میں سکیل 18 میں ایگرانومی کا لیکچرار تعینات ہوگئے۔ان کی پہلی والی تقرری نان شیڈول پوسٹ ہونے کی وجہ سے چانسلر سے منظور شدہ نہ تھی۔ اس لئے غیر قانونی تھی۔ اسی طرح افتخار احمد سکیورٹی آفیسر سکیل 17، محمد سلیم سٹاف آفیسر سکیل 17اورحسین فاروق عثمانی (ریٹائرڈ نیشنل بنک آفیسر) کوسکیل 16 میں بغیر اشتہار و انٹرویوکے تعینات کیا گیا۔یہ تینوں افسران Re-Employed اور موزوں اسامیوں کے لئے زائد العمر بھی تھے۔ انہیں جن اسامیوں پر تعینات کیا گیا تھا ان کے بھرتی کے قواعد بھی چانسلر سے منظور شدہ نہ تھے۔ 2006 میں سابق وائس چانسلر ڈاکٹر بلال اے خان نے میجر ریٹائرڈ ثاقب عزیز کوبطور ڈپٹی رجسٹرار پبلک افیئرز سکیل 18میں تعینات ہوئے۔ 2011میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ہدایت پر ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت حاصل کرنے والے دیگر افسران کے ساتھ ان کو بھی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ مگر حقائق چھپا کر ان کی غیر قانونی تقرری دوبارہ عمل میں لائی گئی۔جوکہ فنانشل فراڈ کے مترادف ہے۔اس کے باوجود آج بھی یونیورسٹی سے پنشن لے رہا ہے۔ڈاکٹر شہاب احمد نیازی کو بغیر کسی اشتہار کےابتدا میں 2 سال کے لئے ایک لاکھ 80ہزار روپے ماہانہ فکسڈ پیکج پر اسسٹنٹ پروفیسر کمپیوٹر سائنس بھرتی کیاگیا۔مگر پہلے ہی سال ان کاپیکیج 2 لاکھ روپے تک بڑھا دیا گیا۔جو کہ من مانی ، موجی اور مالی کرپشن ہے۔ ان مذکورہ بالا افسران و اساتذہ میں سے 14 افراد میں سے 8 (ڈاکٹر محمد عثمان چیمہ ، طاہرہ اختر، ڈاکٹر تنویر ترابی ، ملک محمد سلیم ، افضال احمد ، محمد لطیف ، ثاقب عزیز اور ڈاکٹر شہاب احمد نیازی )نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے نوٹیفکیشن کے اثرات سے بچنے کےلئے عدالت عالیہ بہاولپور بنچ بہاولپور سے بذریعہ رٹ پٹیشن نمبری 2654-19 (ڈاکٹر عثمان چیمہ بنام گورنمنٹ پنجاب) رجوع کرکے مورخہ4 اپریل 2019کو حکم امتناعی حاصل کیا۔ باقی 6 افسران کے خلاف نہ تو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی انتظامیہ نے، تقریباً پانچ سال گزرنے کے بعد عدالت عالیہ نے مورخہ 9 دسمبر 2025 کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے رٹ پٹیشن نمبری 2654-19 کا سٹے آرڈر ختم کرتے ہوئے یونیورسٹی سنڈیکیٹ کو فوری سماعت کرکے فیصلہ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ آج پانچ ماہ گزر چکے ہیں یونیورسٹی اس معاملہ کو نمٹانے سے قاصر ہے جبکہ 18دسمبر 2025کو یونیورسٹی سندیکیٹ کا اجلاس بھی ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود ایسا لگتا ہے یونیورسٹی ان ا فسران کو مزید چھوٹ دینے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں اختیار ات سے تجاوز کرنا اور غیر قانونی تقرریوں کا تسلسل کی بنیاد رکھنے والے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر بلال اے خان تھے۔ جنہوں نے 9اعلیٰ افسران کی غیر قانونی تقرریاں کیں ۔ پھر مقامی سیاست دانوں اور دیگر احباب کی سفارشات ومبینہ مالی رشوت کے باعث سکیل 1 تا 16 کی سینکروں ملازمتیں بانٹیں ۔ جن میں بشیر حسین ایڈیشنل خزانہ دار ، الیاس ہاشمی، ڈپٹی رجسٹرار ، ایچ آر سرفہرست ہیں۔ ڈاکٹر مختار احمد بھارہ سابق وائس چانسلر نے بھی اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے پانچ دیگر افسران کی غیر قانونی تقرریاں کیں۔ سابق وائس چانسلر اطہر محبوب نے غیر قانونی تقرریوں کی تعداد بڑھا کر 2000 سے زائد لے گئے ۔ اگر ان سابق وائس چانسلر صاحبان کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا تو یقیناً آج اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ایک مثالی درجہ پا چکی ہوتی۔







