تین مختلف تاریخ پیدائش، جعلی ریکارڈ، خواتین یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر کا متنازع دور ختم

ملتان (سٹاف رپورٹر) روزنامہ قوم کی طرف سے مسلسل توجہ دلائے جانے اور حقائق منظر عام پر لانے پر تعلیمی سرقہ اور ادارہ جاتی تباہی و کھلواڑ میں ملوث ایک اور سربراہ سے ایک پبلک سیکٹر یونیورسٹی کو چھٹکارا مل گیا۔ خواتین یونیورسٹی ملتان کی 16 مارچ 2026 کو پرو وائس چانسلر کے عہدے کا ٹینور مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے باجود سرتوڑ کوششوں کے توسیع نہ ملنے پر بالآخر اپنا دفتر چھوڑ دیا، ذرائع کے مطابق ان کے پرسنل سیکرٹری عرفان محمود نے وائس چانسلر آفس کو ان سے خالی کروایا، تاہم اس کے ساتھ ہی رجسٹرار آفس کے سامنے واقع پرو وائس چانسلر آفس بھی خالی کروا لیا گیا ہے۔ مزید برآں، ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے زیر استعمال دو سرکاری گاڑیاں بھی یونیورسٹی انتظامیہ نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے حکم پر واپس لے لی ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ یونیورسٹی کے ایک ایڈمن آفیسر محمد شفیق، جو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے پر تعینات ہیں، نے ٹینور ختم ہونے کے دو روز بعد ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے گھر جا کر متعدد نوٹیفکیشنز پر ان سے سابقہ تاریخوں میں دستخط کروائے، جو ایک سنگین قانونی اور اخلاقی خلاف ورزی ہے۔ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے حوالے سے ایک اور چونکا دینے والا پہلو ان کی تین مختلف تاریخِ پیدائش کا سامنے آنا ہے جسے روزنامہ قوم نے مکمل ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کیا۔ ریکارڈ کے مطابق ایک تاریخ 1964، دوسری 1966 اور تیسری 1968 درج ہے۔ ان تضادات کے مطابق وہ 1964 کی بنیاد پر 2024 میں ریٹائر ہو چکی ہیں، 1966 کے مطابق 2026 میں ریٹائر ہوں گی جبکہ 1968 کے مطابق 2028 تک ملازمت جاری رکھ سکتی ہیں، جو نہ صرف ریکارڈ کی سنگین خرابی بلکہ ممکنہ جعلسازی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مزید تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے پاس ایک نجی کالج کا مشکوک تجربہ کا سرٹیفکیٹ موجود ہے، جو کہ کئی سال قبل بند ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے 1997 سے 2013 تک اس ادارے میں 16 سال خدمات انجام دیں، جبکہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ریکارڈ کے مطابق یہ مدت 2007 سے 2013 تک صرف 6 سال بنتی ہے۔ اور بی زیڈ یو میں نجی کالج کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق مس کلثوم پراچہ کی 2008 میں بطور لیکچرار تنخواہ 9603 روپے تھی۔ اس تضاد کی بنیاد پر ان کی بطور اسسٹنٹ پروفیسر اور بعد ازاں ایسوسی ایٹ پروفیسر تقرری بھی غیر قانونی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ ابتدائی تعیناتی کے وقت کسی قسم کا اشتہار بھی جاری نہیں کیا گیا تھا۔ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے بھی ان پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جن میں سیرت کانفرنس، گرینڈ گالا اور سیلاب فنڈ کے لیے جمع ہونے والی رقوم کا ذاتی اکاؤنٹ میں وصول کیا جانا شامل ہے۔ اس حوالے سے یہ مؤقف دینا کہ ٹیکس سے بچنے کے لیے رقم ذاتی اکاؤنٹ میں لی گئی، ماہرین کے مطابق نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ قابلِ تعزیر جرم ہے جسے وہ تسلیم کر رہی ہیں۔ مزید برآں، بطور قائم مقام عہدیدار ملازمین کی غیر قانونی پروموشنز، 80 سے زائد ملازمین کی ایڈوانس انکریمنٹس کا خاتمہ، اور ان کی موجودگی میں ہونے والی 43 ویں سنڈیکیٹ میٹنگ کا غیر قانونی قرار پانا اب ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ان معاملات کی انکوائری کا حکم دیے جانے کے باوجود تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ایک اور اہم پیش رفت میں ہائیکورٹ میں یونیورسٹی کے آفیسر محمد آصف سنگھیڑا کی جانب سے دائر ایک کیس محمد آصف بنام کلثوم پراچہ میں یونیورسٹی کے لیگل ایڈوائزر نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ڈاکٹر کلثوم پراچہ کے دور میں ہونے والی 44 ویں سنڈیکیٹ میٹنگ بھی غیر قانونی قرار پا گئی تھی، جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان سنگین الزامات اور بے ضابطگیوں پر کوئی مؤثر کارروائی کرتا ہے یا حسبِ روایت خاموشی اور دہولت کاری اختیار کرتے ہوئے مستقبل کے لیے ایک موٹیویشنل مثال قائم کی جاتی ہے کہ ادارہ جاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر بھی کوئی گرفت نہیں ہو گی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں