ملتان ڈویژن: رجسٹری ٹیکس چوری، بوگس رسیدیں، خزانے کو 2 سال میں 240 ارب کا جھٹکا

ملتان (سٹاف رپورٹر) پنجاب میں جائیداد کی خرید و فروخت کے شعبے میں ٹیکس چوری اور بوگس ٹیکس رسیدوں کے حوالے سے اربوں روپے کے سنگین مالیاتی سکینڈل منظر عام پر آنے پر وفاقی ٹیکس نظام کی کارکردگی اور شفافیت پر بڑے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ اس کے تدارک کے لئے کمشنر ملتان ڈویژن کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ارسال کی گئی سرکاری دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جعلی اور بوگس کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسیدوں (CPRs) کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ سرکاری آڈٹ رپورٹ کے مطابق صرف ملتان ڈویژن میں یکم جولائی 2022 سے 30 جون 2024 کے دوران جائیداد کی رجسٹریشن کے دوران جعلی ٹیکس رسیدیں جمع کرانے کے باعث وفاقی حکومت کو تقریبا 240 ارب روپے کے ریونیو نقصان یا کم وصولی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس انکشاف نے ایف بی آر کے موجودہ نظام کو سخت تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے جبکہ ٹیکس چوری کے اس وسیع نیٹ ورک کے پیچھے ممکنہ ملی بھگت کے خدشات بھی زور پکڑنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جائیداد کی رجسٹریشن کے وقت دو طرح کے ٹیکس وصول کیے جاتے ہیں۔ ایک طرف حکومت پنجاب کو سٹامپ ڈیوٹی، رجسٹریشن فیس اور دیگر صوبائی محصولات ادا کیے جاتے ہیںجبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت کو انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات 236-C اور 236-K کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔ حیران کن طور پر صوبائی حکومت نے اپنے ٹیکسوں کی وصولی کے لیے جدید اور مکمل خودکار نظام نافذ کر رکھا ہے جس کے تحت ای سٹامپ پیپر، بارکوڈ اور سیریل نمبر کے ذریعے ہر ادائیگی کی مکمل تصدیق ممکن ہوتی ہے اور ایک بار استعمال ہونے کے بعد یہ دستاویز دوبارہ استعمال نہیں ہو سکتی۔ لیکن اس کے برعکس وفاقی ٹیکسوں کی وصولی کا نظام اب بھی فرسودہ طریقہ کار پر قائم ہے جہاں ودہولڈنگ ٹیکس بینک چالان یا آن لائن ادائیگی کے ذریعے جمع کرایا جاتا ہے جو پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کے نظام سے منسلک ہی نہیں۔ اسی خلاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلساز عناصر نے جعلی CPRs کا ایسا جال بچھایا کہ سب رجسٹرار دفاتر میں ان رسیدوں کی اصل یا درستگی کی تصدیق سرے سے ممکن ہی نہیں۔ آڈٹ ٹیموں نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جائیداد کے لین دین میں وفاقی ٹیکس چوری کی سب سے بڑی وجہ یہی جعلی CPRs ہیں جو بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کے دیگر اضلاع میں بھی قومی خزانے کو اسی نوعیت کے بھاری نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ کمشنر ملتان ڈویژن نے اس خطرناک صورتحال پر فوری توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ ایف بی آر کا نظام پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی اور سب رجسٹرار دفاتر کے ساتھ مکمل طور پر مربوط کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سب رجسٹرار دفتر میں ایف بی آر کے افسران تعینات کیے جائیں تاکہ جائیداد کی رجسٹریشن سے قبل ٹیکس چالان کی باقاعدہ تصدیق اور منظوری ممکن ہو سکے۔ یہ معاملہ صرف ایک انتظامی خامی نہیں بلکہ قومی خزانے کے ساتھ ہونے والی ممکنہ منظم مالیاتی بے ضابطگی کا اشارہ بھی دے رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اربوں روپے کے اس نقصان کا ذمہ دار کون ہے، اور کیا اس سکینڈل میں ملوث عناصر کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی بھی ہوگی یا یہ معاملہ بھی دیگر مالیاتی اسکینڈلز کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں