نشترٹومیں کرپشن کا جادو،جدید الیکٹرک بیڈز کی بڑی تعداد غائب

ملتان(وقائع نگار)نشتر ہسپتال ٹو میں کرپشن کی ایک اور داستان رقم مبینہ طور پر آئی سی یو وارڈ سے قیمتی اور جدید سہولیات سے آراستہ الیکٹرک بیڈز کی بڑی تعداد غائب ہوگئی۔قیمتی الیکٹرک بیڈز کا ہسپتال سے غائب ہونا ادارے کی سکیورٹی اور کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔ ہسپتال انتظامیہ کی آئی سی یو وارڈ میں غائب ہونے والے بیڈز کی جگہ عام بیڈز لگانے کی کوشش۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نشتر ہسپتال ٹو کا آئی سی یو وارڈ ابھی مکمل طور پر فعال ہی نہ ہوا ہے اور آئی سی یو وارڈ کے لئے لاکھوں روپے مالیت سے 60 بیڈز خریدے گئے تھے ابھی ایک طرف آئی سی یو وارڈ کو فعال ہی نہ کیا گیا ہے تو دوسری جانب ہسپتال سے آئی سی یو وارڈ کے قیمتی الیکٹرک بیڈز غائب ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان بیڈز کو ایک منصوبے کے تحت غائب کیا گیا ہے کیونکہ ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی کچھ حصہ غائب ہو چکا ہے جسکی وجہ سے یہ بھی معلوم نہ ہو سکا ہے کہ یہ بیڈز کون کب اور کس طرح سے باہر لے کر گیا طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک بیڈز قیمتی ہونے کے ساتھ بھاری بھی ہوتے ہیں اور ہسپتال کے اندر سے انہیں نکال کر باہر لے جانا بہت مشکل کام ہے اور ان کو لے جانے کے لئے کسی بڑی گاڑی کی بھی ضرورت پڑی ہو گی لیکن ہسپتال انتظامیہ کے کچھ افسران و ملازمین کی ملی بھگت سے اس سارے معاملے پر مکمل طور پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معاملہ دبا رہے زرائع کا کہنا ہے کہ وارڈ سے 20 کے قریب بیڈز غائب ہیں جن کا تاحال پتہ نہ چل رہا ہے زرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیڈز کی طرح کچھ اور بھی قیمتی چیزیں ہسپتال سے غائب ہیں جن کو بھی جلد ہی منظر عام پر لایا جائے گا اس بارے میں وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی سے موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون کال اٹینڈ نہ کی جبکہ ایم ایس نشتر ہسپتال ٹو ڈاکٹر سید فخر عباس سے بھی رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال ٹو سے کوئی بیڈ چوری نہیں ہوئے یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں