ملتان (سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب کی اہم درسگاہ محمدنوازشریف یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں، اقربا پروری اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات نے ایک بڑے سکینڈل کی صورت اختیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے پراینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ریجن ملتان نے باضابطہ انکوائری شروع کرتے ہوئے یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر سمیت متعدد افسران کو آج بروز ہفتہ طلب کر لیا ہےجس کے بعد جامعہ کے انتظامی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ دستاویزات کے مطابق اینٹی کرپشن کی جانب سے انکوائری نمبر 228/26 کے تحت کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں شکایت کنندہ انجینئر محمد زاہد اقبال کو بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے الزامات کے حق میں بیان اور دستاویزی شواہد پیش کریں۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کے دوران ایک اور سنگین الزام بھی سامنے آیا ہے کہ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ کی تقرری پانے والے کامران عمر کی تعیناتی مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تقرری کے لیے بنائی گئی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین خود رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر تھے، جو کامران عمر کے سگے بھائی ہیں۔ ماہرین کے مطابق قواعد کے تحت ایسے کسی بھی معاملے میں قریبی رشتہ دار کی موجودگی مفادات کے ٹکراؤ کے زمرے میں آتی ہے اور اس صورت میں متعلقہ افسر کمیٹی کی سربراہی نہیں کر سکتا۔ تاہم الزام ہے کہ اس کے باوجود ڈاکٹر عاصم عمر نے کمیٹی کی صدارت کی اور اپنے بھائی کی تقرری کروائی۔ مزید ڈاکٹر عاصم عمر کی بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بعد ازاں پروفیسر تعیناتی بھی مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کے برعکس کی گئی۔ اس معاملے سے متعلق بھی دستاویزات اینٹی کرپشن حکام کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی دوران یونیورسٹی کے مالی معاملات سے متعلق ایک اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جامعہ میں طلبا و طالبات سے وصول کی جانے والی فیسوں کی مد میں لاکھوں روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔ الزام ہے کہ فیسوں کی وصولی کے دوران مبینہ طور پر بوگس واؤچرز تیار کیے گئے اور بعض طلبا و طالبات کو ایسے جعلی رسیدی دستاویزات فراہم کیے گئے جن کا یونیورسٹی کے اصل مالی ریکارڈ سے کوئی مطابقت نہیں پایا گیا۔ یہ الزامات درست ثابت ہو گئے تو یہ نہ صرف مالی بدعنوانی بلکہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کا سنگین معاملہ بن سکتا ہے۔ اینٹی کرپشن حکام نے رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر، کامران عمر اور دیگر متعلقہ افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ، سلیکشن کمیٹی کی کارروائی، تقرریوں کی فائلیں اور مالی معاملات سے متعلق دستاویزات پیش کریں اور اپنے دفاع میں تحریری مؤقف جمع کروائیں۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق متعلقہ افسران پر غیر قانونی بھرتیوں اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آئے ہیں جو انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہو سکتے ہیں۔ نوٹس میں یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اگر متعلقہ افراد مقررہ تاریخ پر پیش نہ ہوئے تو معاملہ یکطرفہ کارروائی (Ex-parte) کی بنیاد پر نمٹا دیا جائے گا۔ تعلیمی و قانونی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو یہ جنوبی پنجاب کی جامعات میں اقربا پروری، من پسند تقرریوں اور مالی بدعنوانی کا ایک بڑا سکینڈل ثابت ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں گزشتہ کچھ عرصے سے متعدد تقرریوں اور مالی معاملات پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے اور کئی امیدواروں نے میرٹ کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگائے تھے۔ رجسٹرار سطح کے افسران کو اینٹی کرپشن کی جانب سے طلب کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ محض معمولی انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ سنگین نوعیت کی مبینہ بدعنوانی ہو سکتی ہے۔ اگر تحقیقات میں الزامات درست ثابت ہوئے تو نہ صرف متعلقہ افسران کے خلاف فوجداری کارروائی ہو سکتی ہے بلکہ متنازع بھرتیوں کو بھی کالعدم قرار دیے جانے کا امکان ہے، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک بڑے انتظامی اور قانونی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ رجسٹرار ڈاکٹر عاصم عمر 13 سال سے عارضی رجسٹرار کے عہدے سے چمٹے ہوئے ہیں اور جو بھی وائس چانسلر آتے ہیں وہ ان کو رام کر لیتے ہیں۔







