لودھراں : پٹواری کے خلاف سرکاری اراضی فروخت کے نئے انکشافات

ملتان(جنرل رپورٹر)لودھراں کے 9 شہری مواضعات میں تعینات پٹواری کاشف ظفر المعروف کاشی کے خلاف مزید انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پٹواری کی مبینہ ملی بھگت سے شہر کے معروف رہائشی منصوبے ماڈل سٹی میں موجود صوبائی حکومت کا تقریباً 5 کنال 9 مرلے قیمتی سرکاری رقبہ فروخت کروا دیا گیا۔ ماڈل سٹی کے ڈویلپر حنیف رامے نے مبینہ طور پر سرکاری اراضی فروخت کی جبکہ اسی رقبے پر مسجد اور سڑکیں بھی تعمیر کی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 49 مرلے پر دکانیں تعمیر کی گئی ہیں جن کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایک کنال پر گول مسجد قائم کر دی گئی ہے۔ پٹواری کاشف ظفر مبینہ طور پر قریبی کھیوٹ کی نقل جاری کرتا ہے جبکہ قبضہ سرکاری زمین پر کروا دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کی اراضی کی مبینہ بندر بانٹ کی جا رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل لودھراں سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں تمام نجی کالونیوں میں موجود سرکاری رقبے کا معاوضہ بنا کر کالونی مالکان کو ادا کرنے یا اراضی واپس کرنے کا کہا گیا تھا، تاہم تاحال نہ تو معاوضہ سرکاری خزانے میں جمع کروایا گیا اور نہ ہی زمین حکومت کے حوالے کی گئی۔معلوم ہوا ہے کہ اس حوالے سے بورڈ آف ریونیو کو بھی فیصلہ سازی کے لیے مراسلہ ارسال کیا گیا تھا، تاہم کیس تاحال بورڈ آف ریونیو میں زیر التوا ہے اور حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔ جس کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے پٹواری کاشف ظفر المعروف کاشی اپنی ذات کو اور ڈویلپرز کو فائدہ پہنچا رہا ہے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ماڈل سٹی سمیت دیگر تمام نجی ہاؤسنگ اسکیموں کا ریکارڈ فوری طور پر تحویل میں لے کر جامع تحقیقات کی جائیں اور اگر سرکاری اراضی کی غیر قانونی فروخت ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں