اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مختلف مقدمات میں ضمانت دے دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے بانی پی ٹی آئی کی چھ جبکہ بشریٰ بی بی کی ایک درخواست ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت کی۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ساتوں مقدمات میں پچاس، پچاس ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی۔
بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی کے واقعات، آزادی مارچ، اقدام قتل، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، جلاؤ گھیراؤ اور توشہ خانہ کی مبینہ جعلی رسیدوں سے متعلق کیسز درج ہیں۔ اسی طرح بشریٰ بی بی کے خلاف بھی توشہ خانہ کی جعلی رسیدوں کا مقدمہ تھانہ کوہسار میں زیرِ تفتیش ہے۔
سماعت کے دوران پراسیکیوشن ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد موجود ہیں، اس لیے انہیں ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس میں غیر معمولی تاخیر کی گئی اور متعدد مواقع پر ملزم کو پیش نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ طبی نہیں بلکہ میرٹ کی بنیاد پر ضمانت کے طلبگار ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستیں منظور کرلیں۔







