سترلاکھ ٹن گھر کے دانے،مافیا کو گندم امپورٹ کی اجازت دیکر’’سیانوں‘‘کا برباد معیشت کوسوا دو کھرب کا جھٹکا

گندم کی نئی فصل آنے میں صرف 100 دن باقی،سرکاری سطح پر موجود ساڑھے 17 کروڑ من گندم حکومتوں نے بینکوںسے تقریباً 28 فیصد کے حساب سے سود لے کر خرید کی

انشورنس‘ انسپکشن چارجز وغیرہ شامل کر کے 225 ارب سود دینا پڑیگا، اگلی فصل آنے تک زیادہ سے زیادہ 40 لاکھ ٹن گندم استعمال، 30 لاکھ ٹن کا مارک اپ ادا کرنا پڑے گا

وفاقی اور صوبائی محکمہ خوراک کی مشاورت سے امپورٹ کی کھلی اجازت کے بعد پرائیویٹ امپورٹر 2900 روپے من بھارتی گندم منگواتے،کراچی میں پہنچ 3200 روپے من

پرائیویٹ امپورٹرز نے 3700 من پر فروخت کی، ملکی گندم کی قیمت فروخت 4700 مقرر ہونے پر سرکاری گندم سے 500 روپے من کم کر کے 4200 روپے من قیمت مقرر

متعلقہ محکموں کیلئے بینکوں سے لیا گیا پیسہ واپس، سود ادا کرنا مشکل، فیصلے سے آنے والی گندم کی فصل کا نقصان،کسان سے کھلواڑ، چند امپورٹرز کو نوازنے کیلئے کھربوں کی قربانی

ملتان ( میاں غفار سے ) قرضوں اور مسائل میں ڈوبے پاکستان میں ملکی ضرورت سے زائد گندم ہونے کے باوجود امپورٹر مافیا کو اکاموڈیٹ کرنے کی خاطر وزارت خوراک و زراعت کی مشاورت سے پرائیویٹ سیکٹر کو گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دے کر ملکی معیشت کو کھربوں کا نقصان پہنچانے کی بڑی سازش کا انکشاف ہوا ہے جس سے ملکی معیشت کو جہاں نقصان پہنچ چکا ہے وہاں اگلے سال اپریل‘ مئی میں گندم خریدنا بھی حکومت کیلئے مشکل ہو جائے گا اور کسان کی کمر بھی ٹوٹ جائے گی۔ گندم کی نئی فصل آنے میں صرف 100 دن باقی ہیں اور پاکستان کے پاس سرکاری سطح پر اس وقت 70 لاکھ ٹن گندم موجود ہے جس میں سے 45 لاکھ ٹن پنجاب کے محکمہ خوراک کے پاس ہے تقریباً 8 لاکھ ٹن سے زائد سندھ کے پاس موجود ہے اور 17 لاکھ ٹن پاسکو کے پاس موجود ہے جبکہ ملک بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کے پاس بھی لاکھوں ٹن گندم موجود ہے جو لوگوں نے گذشتہ فصل آتے ہی اپنی اپنی سالانہ ضرورت کے مطابق سٹاک کر رکھی ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کی فلور ملوں کے پاس بھی اپنا سٹاک موجود ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومت کے متعلقہ محکموں کے پاس 70 لاکھ ٹن گندم موجود ہے جو کہ منوں کے حساب سے 17 کروڑ 50 لاکھ من گندم بنتی ہے اور اس گندم کی قیمت 4 ہزار روپے فی من کے حساب سے 7 کھرب یعنی 700 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ ساری کی ساری گندم صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت نے بنکوں سے تقریباً 28 فیصد کے حساب سے سود لے کر خرید کی ہے اور اسی سود کو شامل کر کے حکومت نے جو فلور ملوں کیلئے سرکاری قیمت فروخت مقرر کی ہے وہ 4700 روپے فی من ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ حکومت کو 7 کھرب روپے کے اس قرض پر انشورنس‘ انسپکشن چارجز وغیرہ شامل کر کے تقریباً سوا دو کھرب یعنی 225 ارب روپے سود کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ موجودہ سال کے 43 دن باقی ہیں جبکہ سال 2024ء کے تقریباً 60 دن اور اس طرح 103 سے 105 دن بعد یکم مارچ تک سندھ کی گندم کٹائی کے بعد مارکیٹ میں آنا شروع ہو جاتی ہے جبکہ 15سے 18 مارچ کو چولستان کی گندم کی مارکیٹ میں سپلائی شروع ہو جاتی ہے۔ایسے موقع پر جبکہ حکومتوں کے پاس 70 لاکھ ٹن گندم موجود ہے اور ملکی ضرورت کے مطابق حکومت فلور ملوں کو 40 ہزار ٹن روزانہ بھی کوٹہ جاری کرے جو کہ اچھی خاصی مقدار ہے تو اگلی فصل آنے تک زیادہ سے زیادہ 40 لاکھ ٹن گندم استعمال ہو گی اور پھر بھی 30 لاکھ ٹن گندم وافر ہو گی جس پر حکومتوں کو اگلے سال کا مارک اپ بھی بنکوں کو دینا پڑے گا۔ ان تمام اعداد و شمار کی موجودگی اور وافر گندم کے باوجود وفاقی اور صوبائی محکمہ خوراک کی مشاورت سے پرائیویٹ امپورٹر کو کھلی اجازت دے دی گئی ہے کہ وہ جتنی چاہیں گندم امپورٹ کریں۔ اس وقت بھارتی گندم کا پاکستانی کرنسی کے مطابق ریٹ تقریباً 2900 من ہے اور پرائیویٹ امپورٹرز جو گندم مختلف ممالک سے منگوا رہے ہیں وہ انہیں کراچی میں 3200 روپے من پڑ رہی ہے جبکہ ان پرائیویٹ امپورٹرز نے پہلے 3200 روپے فی من منگوا کر 3700 من پر فروخت کرنا شروع کی مگر جب حکومت نے ملکی گندم کی قیمت فروخت 4700 مقرر کی تو امپورٹرز نے فی من ایک ہزار منافع شامل کر کے امپورٹ شدہ گندم کی قیمت 4200 روپے فی من مقرر کر دی جو کہ اب بھی ملکی سرکاری گندم سے 500 روپے فی من کم ہے۔ اس صورتحال میں خوراک سے متعلقہ محکموں کیلئے بنکوں سے لیا گیا پیسہ واپس کرنا اور اس پر سود ادا کرنا مشکل ہو گا، اس لئے اس فیصلے سے نہ صرف آئندہ آنے والی گندم کی فصل کا نقصان اور کسان کے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے بلکہ چند امپورٹرز کو اکاموڈیٹ کرنے کیلئے ملکی معیشت کو کھربوں کا نقصان بھی پہنچا دیا گیا ہے۔
ٹیکہ

ہمارے فیس بک پیچ کو فالو کرنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں

کپاس کے کاشتکار خبرادار ہوجائیں ،20 نومبر کے بعد کیا ہونیوالا ہے؟

شیئر کریں

:مزید خبریں