ملتان ( خبر نگار ) کمپیوٹر آپریٹر عابد حسین غیر قانونی طریقہ اور ملی بھگت سے سپرنٹنڈنٹ سلاٹر ہاؤس بن گیا ، غیر قانونی ترقیاں، تعیناتیاں چیلنج کر دی گئیں ، تحقیقات پر تنزلی اور ریکوری کے امکانات روشن ہیں ، چیف کارپوریشن افسر اقبال خان کی ملی بھگت سے لوٹ مار کا بازار بھی گرم کر رکھا ہے۔ تفصیل کے مطابق میونسپل کارپوریشن ملتان کا سپرنٹنڈنٹ سلاٹر ہاؤس عابد حسین تین سالہ کنٹریکٹ پر 2006 میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ملتان میں گریڈ 12 میں بطور پی اے / کمپیوٹر آپریٹر بھرتی ہوا تھا اور 2009 میں اس کی مستقل تعیناتی بھی اسی سکیل میں ہوئی تھی ، علاوہ ازیں 31 دسمبر 2016 تک اسی سکیل کے مطابق سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سے تنخواہ لیتا رہا ، جبکہ یکم جنوری 2017 کو میونسپل کارپوریشن ملتان دوبارہ بحال ہو جانے پر وہ میونسپل کارپوریشن کے سٹاف میں ایڈجسٹ ہو گیا ، اس ایڈجسٹمنٹ کے بعد اس نے چیف افسر میونسپل کارپوریشن کو درخواست دے دی کہ اسے گریڈ 16 میں ایڈجسٹ کیا جائے کیوں کہ پنجاب حکومت فنانس ڈیپارٹمنٹ پہلے ہی گریڈ 15 کے پی اے / کمپیوٹر آپریٹروں کو گریڈ 16 ایوارڈ کر چکی ہے ، اس ضمن میں چیف افسر میونسپل کارپوریشن نے سرکاری چٹھی نمبری 981/CO – MCM کے تحت سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ پنجاب سے رہنمائی طلب کی جبکہ 29 مارچ 2018 کو سیکشن افسر کی جانب سے سرکاری چٹھی نمبرSO – admn – III ( LG ) 3 – 155/2007 کے تحت اس کی گریڈ 16 میں تعیناتی/ ترقی کی منظوری دے دی ، جس کے بارے میں میونسپل کارپوریشن کے درجن بھر سے زائد ملازمین نے بوگس ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ، عابد حسین کی گریڈ 16 میں اپ گریڈیشن اور بعد ازاں گریڈ 17 میں ترقی کو سروس رولز ، شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ ، محکمہ خزانہ پنجاب کی مالیاتی پالیسی اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کمشنر ملتان کو تحقیقات کے لیے درخواست دے دی ہے ان کا موقف ہے کہ گریڈ 16 دیے جانے کی صوبائی حکومت کی پالیسی گریڈ 15 میں بھرتی ہونے والے پی اے / کمپیوٹر آپریٹروں کے لیے تھی جبکہ گریڈ 12 میں بھرتی ہونے والے مذکورہ اہلکاروں لیے نہ تھی ، س دوسری طرف 2 اگست 2021 کو ایک عارضی شیڈیول پر ہونے والی میونسپل کارپوریشن کی ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی میں اسے گریڈ 17 میں ترقی دے دی گئی ، درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ 1997 کے سروس رولز کے تحت کلرک کیڈر کو بتدریج ترقی دے کر ہی سپرنٹنڈنٹ بنایا جا سکتا ہے ، عابد حسین کا تعلق مختلف کیڈر سے ہے ، ملی بھگت کے باعث انکا ” نومنکلیچر ” تبدیل کر کے کیڈر اسٹرکچر کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ، جبکہ ڈی پی سی بھی جعلی ہے ، کمشنر ملتان ڈویژن کی بطور ایڈمنسٹریٹر کارپوریشن ملتان کی جانب سے اس ڈی پی سی کے انعقاد کی منظوری کا سرے سے کوئی حکم نامہ دستیاب نہ ہے اور نہ ہی بعد ازاں مذکورہ اتھارٹی کی جانب سے اس ڈی پی سی پر ان کے دستخط موجود ہیں لہذا پنجاب لوکل کونسل سرونٹ سروس رولز کے تحت گریڈ 17 کے لوکل کونسل افسر کے کیڈر میں یہ ترقی غیر قانونی ہے علاوہ ازیں ایک سرکاری ملازم شاہد بشیر نے اس غیر قانونی ترقی کو لیبر کورٹ ملتان میں چیلنج کر دیا تھا جس نے سات نومبر 2022 کو یہ ترقی غیر قانونی قرار دے دی تھی اس فیصلہ کے خلاف عابد حسین کی جانب سے پنجاب لیبر اپیلنٹ ٹربیونل سے رجوع کرنے پر مذکورہ لیبر کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا گیا تھا بعد ازاں عابد حسین نے عدالت عالیہ ملتان بینچ سے رجوع کیا تو عدالت عالیہ نے لیبر کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن حکام سے تفصیلات اور ریکارڈ طلب کر لیا جبکہ عدالت عالیہ کے حتمی فیصلہ کے بغیر مذکورہ اہلکار کی گریڈ 17 کی پوسٹ پر بدستور تعیناتی ، تنخواہیں اور مراعات کے اجرأ پر جونیئر ملازمین میں سخت تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے ، درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اس عمل میں اختیارات سے تجاوز ، شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ ، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی یا سرکاری ریکارڈ میں ہیراپھیری ثابت ہونے پر یہ معاملہ بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آئے گا اور دستیاب ریکارڈ کے مطابق یہ صریحا” اینٹی کرپشن کا کیس بن جائے گا ، بوگس ڈی پی سی کے تحت ہونے والی تمام ترقیاں منسوخ اور تنخواہوں و دیگر مدات میں کی گئی سرکاری رقوم کی ریکوری اور ذمہ دار افسروں کو سزائیں بھی ہونگی ، جبکہ دوسری طرف اس عارضی اور غیر قانونی ترقی کے باوجود چیف افسر میونسپل کارپوریشن ملتان اقبال خان اور عابد حسین پر ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں ۔







