اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بھی شرکاء کو تفصیلی معلومات فراہم کیں۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا اور 27ویں ترمیم کے تحت آئین کی 46 شقوں میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔ اس ترمیم میں آئینی عدالت کے قیام، ججز کی ٹرانسفر اور آرٹیکل 243 میں تبدیلی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق آرمی، ایئرفورس اور نیوی کے بعد اب چوتھی فورس “آرمی راکٹ فورس” (ARFC) بنائی گئی ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف کو اب “کمانڈر آف ڈیفنس فورسز” بھی کہا جائے گا اور تمام کوآرڈینیشن اسی کے تحت ہوگی۔ راکٹ فورس میں اسٹریٹیجک پلان ڈویژن (SPD) بھی شامل ہوگی، جو پہلے چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کے ماتحت کام کرتی تھی، تاہم اب چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کا عہدہ ختم کر کے اس کی جگہ کمانڈر آف ڈیفنس فورسز لے گا۔
اجلاس میں منظوری کے بعد ترامیم کو سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی اس پر غور کرے گی۔ کمیٹی اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور اس میں مختلف نمائندے خصوصی طور پر شامل ہوں گے۔







