بہاولپور ریلوے ڈویژن میں کرپشن اور ای آر کے نام پر منظم گھناؤنے کھیل کا انکشاف

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) ملتان ریلوے ڈویژن کے قطب پور سیکشن میں مبینہ طور پر ای آر کے نام پر جاری گھناؤنے کھیل اور کرپشن کے انکشافات نے پورے ڈویژن میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اے ڈبلیو آئی مولوی عبدالغفار، ٹی ایل اے گینگ مین محمد آصف کلرک اور پی ڈبلیو آئی محمد نعمان نے ملی بھگت سے ریلوے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے، جبکہ نائٹ پٹرولنگ، کی مینوں اور ٹی ایل اے ملازمین سے منتھلیوں کا دھندا عروج پر پہنچ چکا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ شجاع آباد سے آنے والے متعدد ٹی ایل اے ملازمین کو بغیر حاضری کے “ریلیف” دیا گیا، جبکہ موقع پر کام کرنے والے عملے کو دباؤ میں رکھا گیا۔ ای آر کے نام پر ہونے والے اس کھیل کی نشاندہی کے بعد متعلقہ افسران اور پی ڈبلیو آفس میں کھلبلی مچ گئی۔مزید بتایا گیا کہ پی ڈبلیو آئی ملک محمد نعمان، جو کہ تبادلے کے باوجود تاحال چارج پر موجود ہیں، نے اپنے خلاف جاری ہونے والے شوکاز نوٹس رکوانے کے لیے اپنے پسندیدہ افسران اور حمایتی گروپ سے مدد مانگی۔ دوسری جانب مولوی عبدالغفار نے، جو جہانیاں کے رہائشی ہیں، اپنے مقامی سیکشن پر اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے پسندیدہ ٹی ایل اے ملازمین سے منتھلیاں وصول کر کے انہیں ریلیف فراہم کیا۔سیکشن میں بروقت کام نہ ہونے کے باعث ٹرینوں کی رفتار 120 سے کم کر کے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی۔ تاہم حیران کن طور پر بغیر کسی ریل یا سلیپر تبدیلی کے سپیڈ دوبارہ 120 کر دی گئی، جس نے اعلیٰ حکام میں بھی شکوک و شبہات پیدا کر دیے۔ذرائع کے مطابق نعمان پی ڈبلیو آئی نے ٹریک کی دیکھ بھال کے بجائے تمام توجہ اپنے شوکاز نوٹس کو جاری ہونے سے رکوانے پر مرکوز کر رکھی ھے، جس سے سیکشن کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی اور گاڑیاں گھنٹوں تاخیر کا شکار رہیں۔گینگ نمبر ایک تا 14 کے ہر گینگ مین سے مولوی عبدالغفار اور محمد آصف کے ذریعے منتھلیاں وصول کی گئیں، جبکہ اصل کام نہ ہونے سے ٹریک اعلیٰ افسران نے چیکنگ بھی کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد مولوی عبدالغفار نے تمام ٹی ایل اے ملازمین کو فوری طور پر ڈیوٹی پر حاضری کے احکامات تو جاری کر دیے، مگر اپنی کرپشن پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ ان سے مؤقف لینے کے لیے متعدد بار رابطہ کیا گیا مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔پی ڈبلیو آئی ملک محمد نعمان نے اپنے مؤقف میں کہا کہ “میں نے سلیپر اور ریل کی باقاعدہ ڈیمانڈ دی تھی، اور بروقت تبدیلی کے بعد ٹریک کی سپیڈ 80 سے دوبارہ 120 کی گئی۔” تاہم زمینی حقائق اس بیان کی نفی کرتے ہیں۔ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ای او ریلوے، ڈی جی ویجیلنس اور سیکرٹری ریلوے کو فوری طور پر اس پورے معاملے کی غیرجانبدارانہ انکوائری کرنی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ بغیر ریل تبدیل کیے سپیڈ 120 کیسے بحال کی گئی، اور ٹی ایل اے ملازمین کو ریلیف دینے کے پسِ پردہ کون سی قوتیں سرگرم ہیں۔ریلوے کے اندر چھپی ہوئی یہ “کالی بھیڑیں” نظام کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں، اور اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو اسی طرح کرپشن کا بازار گرم رہے گا جب کہ محمد آصف ٹی ایل اے ملازم نے بتایا اپنے موقف میں کہ میں بطور اسٹور چوکیدار کی ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہوں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں